Gulshan Bayabani
Gulshan Bayabani
Gulshan Bayabani
Ghazalغزل
مکڑیوں نے وقت کی کر دیا کمال سا میرے گرد بن دیا الجھنوں کا جال سا اس نئی صدی کا یہ کارنامہ خوب ہے سکھ کا ایک لمحہ ہے دکھ کے ایک سال سا پیٹھ پر لدا ہوا مسئلوں کا بوجھ ہے بن گیا ہے آدمی آج کل حمال سا دوستی کے وار سے ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا دل ہمارے سینے میں تھا کبھی جو ڈھال سا فکر و فن کی تشنگی کس طرح بجھاؤں میں بستی خیال میں لفظوں کا ہے کال سا موسم بہار ہے پر ابھی کھلا نہیں گلشنؔ حیات میں پھول بے مثال سا
makDiyon ne vaqt ki kar diyaa kamaal saa
دل میں جب شعلۂ احساس مچل جاتا ہے موم کی طرح سے پتھر بھی پگھل جاتا ہے کیسے کہہ دوں کہ یہ سورج ہے اجالوں کا امیں شام ہوتے ہی اندھیروں میں جو ڈھل جاتا ہے چند قطروں کی مرے دوست حقیقت کیا ہے ظرف والا تو سمندر بھی نگل جاتا ہے کیا ضروری ہے کہ شعلوں کو ہوا دی جائے جس کو جلنا ہے وہ پھولوں سے بھی جل جاتا ہے یہ سیاست کا ہے بازار یہاں پر یارو کھوٹا سکہ بھی کھرے داموں میں چل جاتا ہے وقت کے ساتھ بدل جاتے ہیں چہرے گلشنؔ لوگ کہتے ہیں کہ آئینہ بدل جاتا ہے
dil mein jab shoala-e-ehsaas machal jaataa hai
کیسے کیسے یہ کمالات دکھائیں بابا لوگ سورج کو ہتھیلی پہ اگائیں بابا دودھ بچوں کو بھلا کیسے پلائیں بابا ایک مدت ہوئی فاقے سے ہیں مائیں بابا لوگ اب اس کو بھی اوتار سمجھ لیتے ہیں چھین لیتا ہے جو بہنوں کی ردائیں بابا جسم تو جسم ہیں جذبات جھلس جاتے ہیں گرم ہوتی ہیں بہت شہری ہوائیں بابا کچی کلیوں کو حسیں پھول بنا دیتی ہیں کتنی بد ذات ہیں سورج کی شعاعیں بابا دوست حق بات پہ گویا تو ہیں لیکن ایسے جیسے گویا ہوں اجنتا کی گپھائیں بابا توبہ کرتی ہے مگر آج نہیں کل گلشنؔ آج تو چھائی ہیں گھنگھور گھٹائیں بابا
kaise kaise ye kamaalaat dikhaaein baabaa
محبت کا وعدہ نبھایا ہے میں نے زمانے کو نیچا دکھایا ہے میں نے کہیں وقت اس کو نہ مسمار کر دے محل آرزو کا بنایا ہے میں نے وہ مجھ سے بھی آگے بڑھا جا رہا ہے جسے پاؤں چلنا سکھایا ہے میں نے زمانہ پہ چھایا ہوا تھا اندھیرا اندھیرے میں دیپک جلایا ہے میں نے مصیبت میں تم کیا مرا ساتھ دو گے تمہیں بارہا آزمایا ہے میں نے سفینہ اسی نے ڈبویا ہے میرا جسے ڈوبنے سے بچایا ہے میں نے بہار سخن مجھ سے منسوب کر دو بیاباں کو گلشنؔ بنایا ہے میں نے
mohabbat kaa vaada nibhaayaa hai main ne





