SHAWORDS
Gulshan Khanna

Gulshan Khanna

Gulshan Khanna

Gulshan Khanna

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

parinde ham ko peDon par dikhaai kyon nahin dete

پرندے ہم کو پیڑوں پر دکھائی کیوں نہیں دیتے کسی بھی شاخ پر اب گھر دکھائی کیوں نہیں دیتے نہ تتلی ہے نہ شبنم ہے نہ کلیاں ہیں نہ غنچے ہیں بہاروں کے بھلا منظر دکھائی کیوں نہیں دیتے ستارے سو رہے ہیں آسماں کو گود میں تھک کر مجھے اب چاند کے منظر دکھائی کیوں نہیں دیتے جہاں امن و اماں کی دیویاں آواز دیتی تھیں اب ایسے خوبرو مندر دکھائی کیوں نہیں دیتے شرافت فخر انساں تھی کبھی ایمان و راحت تھی زمانے میں یہ اب جوہر دکھائی کیوں نہیں دیتے پیالے کیوں مرے ہونٹوں تک آ کر ٹوٹ جاتے ہیں رسیلے اب یہاں ساغر دکھائی کیوں نہیں دیتے ریا کاری ہے کیوں شیوہ ہمارے دوستوں کا اب محبت کے یہاں گوہر دکھائی کیوں نہیں دیتے جہاں انسان کی انسان سے ہو دوستی گلشنؔ کسی بھی سمت ایسے در دکھائی کیوں نہیں دیتے

غزل · Ghazal

yaa-rab ye kaisaa aaj kaa insaan ho gayaa

یارب یہ کیسا آج کا انسان ہو گیا تخلیق کر کے تو بھی پشیمان ہو گیا موسم بہار کا تھا خزاں جلد آ گئی ہنستا ہوا چمن مرا ویران ہو گیا لوٹا ہے جس نے شہر کے صبر و قرار کو وہ شخص میرے شہر کا پردھان ہو گیا ایسے نئے چلن کی چلیں آندھیاں یہاں انسان اپنی ذات میں حیوان ہو گیا چاہا تھا میں نے دل سے کبھی تجھ کو ٹوٹ کر وہ حادثہ حیات کا عنوان ہو گیا تھیں زندگی کی راہ میں دشواریاں بہت مرنا کسی کے عشق میں آسان ہو گیا اتنا حسین ہے مرے گلشنؔ کا بانکپن ہر گل مری نگاہ میں ذیشان ہو گیا

غزل · Ghazal

hare shajar na sahi khushk ghaas rahne do

ہرے شجر نہ سہی خشک گھاس رہنے دو زمیں کے جسم پہ کوئی لباس رہنے دو میں زندگی کی کڑی دھوپ میں اکیلا ہوں فریب ابر مرے آس پاس رہنے دو اذیتیں ہی محبت کی روح ہوتی ہیں مرے وجود میں اتنی سی آس رہنے دو کوئی کرن مری امید کی نہیں باقی مرے خیالوں میں تصویر یاس رہنے دو ہماری پیاس کبھی تو کوئی بجھائے گا لرزتے ہاتھوں میں خالی گلاس رہنے دو میں ایک گلشن بے رنگ ہوں خدا کے لیے مری فضا میں امیدوں کی باس رہنے دو

Similar Poets