SHAWORDS
G

Gulzar Vafa Chaudhari

Gulzar Vafa Chaudhari

Gulzar Vafa Chaudhari

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

کون سی منزل ہے جو بے خواب آنکھوں میں نہیں ایک سورج ڈھونڈھتا ہوں جو کہ سپنوں میں نہیں دیکھتا رہتا ہوں مٹتے شہر کے نقش و نگار آنکھ میں وہ صورتیں بھی ہیں کہ گلیوں میں نہیں موسموں کا رخ ادھر کو ہے ہواؤں کا ادھر جنگلوں میں بات کوئی ہے کہ شہروں میں نہیں پیلی پیلی تتلیاں ہیں اور محرومی کا رقص کون سا وہ ذائقہ ہوگا کہ پھولوں میں نہیں یوں تو ہر جانب کھڑے ہیں یہ قطار اندر قطار ایک ٹھنڈک ہے کہ ان پیڑوں کے سایوں میں نہیں چاند تاروں کی ضیائیں کہکشاؤں کے ہجوم کون سا وہ آسماں ہے جو زمینوں میں نہیں

kaun si manzil hai jo be-khvaab aankhon mein nahin

غزل · Ghazal

پرانے پیڑ کو موسم نئی قبائیں دے گلوں میں دفن کرے ریشمی ردائیں دے شب وصال بھی منزل ہے میرے ذوق سفر مجھے وصال سے آگے کی انتہائی دے میں ایک دانۂ پامال تھا مگر اے خاک اب اگ رہا ہوں مرے تن کو بھی قبائیں دے فصیل شہر ستم سرخ ہوتی جاتی ہے امیر شہر ہمیں شوق سے سزائیں دے کریں مشاہدہ گلزار ایسی آنکھوں سے نظر ہٹائیں تو منظر ہمیں صدائیں دے

puraane peD ko mausam nai qabaaein de

غزل · Ghazal

دھول نہ بننا آئینوں پر بار نہ ہونا بینائی کے رستے کی دیوار نہ ہونا شہروں کا ورثہ ہیں جلتے بجھتے منظر رہنا لیکن ہم رنگ بازار نہ ہونا زہر ہوائیں پروا رنگوں میں چلتی ہیں سادہ کلیو ان کے لئے گلنار نہ ہونا ملنے کا کھلنے کا موسم دور نہیں ہے نخل ماتم اے میرے اشجار نہ ہونا میں نے چمن کی خاطر کون سے دکھ جھیلے ہیں شاخ بہاراں میرے لئے گل بار نہ ہونا

dhuul na bannaa aainon par baar na honaa

غزل · Ghazal

بوسیدہ عمارات کو مسمار کیا ہے ہم لوگوں نے ہر راہ کو ہموار کیا ہے یوں مرکزی کردار میں ہم ڈوبے ہیں جیسے خود ہم نے ڈرامے کا یہ کردار کیا ہے دیوار کی ہر خشت پہ لکھے ہیں مطالب یوں شہر کو آئینۂ اظہار کیا ہے بینائی مرے شہر میں اک جرم ہے لیکن ہر آنکھ کو رنگوں نے گرفتار کیا ہے درپیش ابد تک کا سفر ہے تو بدن کو کیوں بار کش سایۂ اشجار کیا ہے

bosida imaaraat ko mismaar kiyaa hai

غزل · Ghazal

اڑنا تو بہت اڑنا افلاک پہ جا رہنا ہم نے کہاں سیکھا ہے زیر کف پا رہنا آنکھوں کو کھلا رکھنا کس کے لئے آساں ہے یاں کس کو گوارا ہے آنکھوں کا کھلا رہنا جو موجۂ باد آیا زردی کا پیمبر تھا اعجاز سے کیا کم ہے پیڑوں کا ہرا رہنا باغوں میں خراماں تھی شہروں میں پریشاں ہے خوشبو کو نہ راس آیا پابند ہوا رہنا میں ذات کے صحرا میں تا عمر نہ بھٹکوں گا اے شہر کے دروازو میرے لیے وا رہنا

uDnaa to bahut uDnaa aflaak pe jaa rahnaa

غزل · Ghazal

ایک میں ہوں اور لاکھ مسائل خدا گواہ دست طلب ہے کاسۂ سائل خدا گواہ آنکھیں کھلیں تو اور ہی منظر تھا روبرو خود میں تھا اپنی راہ میں حائل خدا گواہ یہ کائنات رقص میں ہے اک مرے لئے پہنے ہوئے نجوم کی پائل خدا گواہ دل میں محبتیں ہیں تو آنکھوں میں حیرتیں میرے فقط یہی ہیں وسائل خدا گواہ منصف تری طرف سہی پر خون بے گناہ دے گا ترے خلاف دلائل خدا گواہ دن رات اک جنون تلاش معاش ہے اب کوئی منحرف ہے نہ قائل خدا گواہ

ek main huun aur laakh masaail khudaa gavaah

Similar Poets