SHAWORDS
Gurbir Chhaebrra

Gurbir Chhaebrra

Gurbir Chhaebrra

Gurbir Chhaebrra

poet
11Ghazal

Ghazalغزل

See all 11
غزل · Ghazal

chaand taare phuul khushbu sab haTaa do

چاند تارے پھول خوشبو سب ہٹا دو اس کے جیسا دوسرا ہے تو بتا دو اس کی اک تصویر ہے میں نے بنائی میرا یہ دل کھول کے اس کو دکھا دو دور سے مت دیکھنا تم یہ تماشہ آگ جو دیکھو کہیں بھی تو بجھا دو میں کروں گا ہر دعا اس کے لیے ہی تم مجھے زہراب یہ چاہے پلا دو میں نے اس کو جو لکھے تھے بارہا سب راز رہنے دو وہ سارے خط جلا دو اس کو تو نفرت ہے پھولوں کی مہک سے میری میت پر جو بکھرے ہیں ہٹا دو قرض تیرا مجھ پہ قاصدؔ یہ رہے گا میری خاک اس کے محلے میں اڑا دو

غزل · Ghazal

vo jis kaa naam is dil par likhaayaa hai

وہ جس کا نام اس دل پر لکھایا ہے اسی سے راز میں نے یہ چھپایا ہے بہت مغرور ہے وہ مانا یہ لیکن خدا اس کو ہی میں نے بھی بنایا ہے یقیں ہے خط آ جائے گا کبھی اس کا یوں اپنا حوصلہ میں نے بڑھایا ہے سمجھتا ہے محبت کو جو بے معانی اسی کا خواب اس دل میں سجایا ہے وفا اقرار الفت دوستی سچ ہیں نگر میں جھوٹ یہ کس نے اڑایا ہے خدا حیران ہے انسان پر اب کیوں جگہ پر اس کی دولت کو بٹھایا ہے ہے روکی موت قاصدؔ کے لیے میں نے کہاں یہ وقت اس نے اب لگایا ہے

غزل · Ghazal

kisi patthar ko chaahaa hai ye dil kaisaa divaanaa hai

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانا ہے محبت ہے اسے اس سے جسے چاہے زمانہ ہے کروں آنکھیں جو اپنی بند دکھ چہرہ وہ جاتا ہے نہ چھوٹے گا کبھی مر کے بھی یہ رشتہ پرانا ہے میرے مرنے کے ہیں جھگڑے تو مجھ کو مر ہی جانے دو میری ہی غلطی ہے ساری یہی اس کا بہانہ ہے دو موتی دیکھے ہیں میں نے بچھڑتے اس کی آنکھوں سے ستارے جو جدا ہیں چاند سے ان کو چرانا ہے بنا بولے وہ مجھ سے ہر لڑائی جیت جاتا ہے نہ ہے تلوار نہ خنجر مگر جاں کو بچانا ہے وہ میری قبر پہ آیا مگر کس حق سے آیا ہے چمن برباد کر کے اب چراغوں کو بجھانا ہے کنواں تھا پاس قاصدؔ پھر بھی میں پیاسا ہی لوٹا ہوں اسے میں پی نہیں سکتا مگر خود کو ڈبانا ہے

غزل · Ghazal

kisi patthar ko chaahaa hai ye dil kaisaa divaana hai

کسی پتھر کو چاہا ہے یہ دل کیسا دوانہ ہے محبت ہے اسے اس سے جسے چاہے زمانا ہے کروں آنکھیں جو اپنی بند دکھ چہرہ وہ جاتا ہے کبھی چھوٹے گا نہ مر کے بھی یہ رشتہ پرانا ہے مرے مرنے کے ہیں جھگڑے تو مجھ کو مر ہی جانے دو مری ہی غلطی ہے ساری تمہارا یہ بہانا ہے دو موتی دیکھے ہیں میں نے بچھڑتے اس کی آنکھوں سے ستارے جو جدا ہیں چاند سے ان کو چرانا ہے بنا بولے وہ مجھ سے ہر لڑائی جیت جاتا ہے نہ ہے تلوار نہ خنجر مگر جاں کو بچانا ہے وہ میری قبر پہ آیا مگر کس حق سے آیا ہے چمن برباد کر کے اب چراغوں کو بجھانا ہے کنواں تھا پاس میرے پھر بھی میں پیاسا ہی لوٹا ہوں اسے میں پی نہیں سکتا مگر خود کو ڈبانا ہے

غزل · Ghazal

khvaab TuuTe sajaanaa mushkil hai

خواب ٹوٹے سجانا مشکل ہے پیار پہلا بھلانا مشکل ہے سب کو اس کی تمنا ہے لیکن چاند دھرتی پہ لانا مشکل ہے اس کی آنکھوں میں ہیں کئی ساغر تیر کے پار جانا مشکل ہے ہم نے پتھر لہو سے سینچا ہے پھول اس پر کھلانا مشکل ہے اس کو خود میں تلاش کرتا ہوں راز سب سے چھپانا مشکل ہے دل کی حسرت نکل نہیں پائی ساری خوشیوں کو پانا مشکل ہے اس کے جانے سے خوش نہیں قاصدؔ دل سے اب مسکرانا مشکل ہے

غزل · Ghazal

mulk ki miTTi kabhi dil se judaa hoti nahin

ملک کی مٹی کبھی دل سے جدا ہوتی نہیں کتنا بھی میں تنگ کر لوں ماں خفا ہوتی نہیں ڈائری میں جو بزرگوں نے لکھیں تھی عبارتیں اب عمل کے واسطے ان پر رضا ہوتی نہیں وہ ملا ہے جب سے مجھ کو موت سے لگتا ہے ڈر اس کی شرکت کے بنا کوئی دعا ہوتی نہیں ہے غم فرقت یہاں تو کچھ غم ہستی بھی ہے درد بڑھ جاتا ہے حد سے تو دوا ہوتی نہیں خوب ہے انداز اس کے روٹھنے کا دوستو دل میں ہے ناراضی چہرے سے نما ہوتی نہیں زندگی تو بیت جاتی ہے یہ ثابت کرنے میں بس ذرا سا ساتھ چلنا ہی وفا ہوتی نہیں ایک عرصے سے مرے زنداں میں یہ قید ہے روح میرے جسم سے قاصدؔ رہا ہوتی نہیں

Similar Poets