Gustakh Dakni
سودھن کارن پیاری کے سو دیواراں دھرائی میں لگا کر سیس کیاں ایتاں چھجے محلاں اچائی میں پیاکی نیہ کیاں غالیاں بچھائی میں مندھر بھیتر پااندازاں عقل سٹ کر پیا کوں یوں لے آئی میں محبت کے محل پاتاں صبوری تھام اس لاکر نہ کر کہگل چھپا کر تو عمارت سب سپائی میں پیا کے دیکھنے کارن دو نیناں میں چراغاں دھر مزمو کے بتیاں کر کر انجو روغن جلائی میں صدا دلبر کئی جاگا دو نیناں کے جھروکے دھر پلک کے چک اوپر سٹ کر سجن مہماں بلائی میں لہو لالن اچاکر تو بہشتی تن مرتب کر مڈاں کے گانے خاطر آب آتش عشق لائی میں پیا کے نقل کے خاطر جگر کے میں کباباں کر اپس کے نین کے سکھ کوں پرم پیالا پلائی میں ہوئی ماتی پیا کے سنگ سکیاں ہو سنو یوں کر رہی گستاخؔ میں پیو سوں پیا کوں تو کہلائی میں
سودھن کارن پیاری کے سو دیواراں دھرائی میں