SHAWORDS
G

Gustakh Rampuri

Gustakh Rampuri

Gustakh Rampuri

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

dam-e-aakhir sanam phere hain aankhein bad-gumaan ho kar

دم آخر صنم پھیرے ہیں آنکھیں بد گماں ہو کر پھرے ہیں یہ مری آنکھوں کے تارے پتلیاں ہو کر مری فریاد سن کر فصل گل میں شور کرتی ہیں چمن میں بلبلیں نالاں ہیں میری ہم زباں ہو کر گلے مل کر عروس تیغ سے یہ آبرو پائی پڑے ہیں ہار زخموں کے گلے میں بدھیاں ہو کر شب فرقت کوئی نالہ اگر منہ سے نکلتا ہے فلک سے پھر کر آتا ہے بلائے ناگہاں ہو کر ہوائے دید گل جوش جنوں میں بھی رہی باقی گئے گستاخؔ صحرا کو تو سوئے بوستاں ہو کر

غزل · Ghazal

fidaa hai ijz tiri shaan-e-kibriyaai kaa

فدا ہے عجز تری شان کبریائی کا کوئی دکھائے یہ انداز خود نمائی کا درود پڑھتے ہو آنکھوں کو دیکھ کر اپنی بہانہ کرتے ہو کیوں سرمے کی سلائی کا ہوئی جو عمر زیادہ تو یہ ہوا ظاہر شباب ہی میں مزا کچھ ہے آشنائی کا پروں میں اڑنے کی طاقت ہی اب نہیں باقی خیال بھی ہمیں ہوتا نہیں رہائی کا بتوں کی چال میں گستاخؔ آ نہیں سکتا چھٹا ہوا ہے وہ کمبخت اک خدائی کا

غزل · Ghazal

khataa hai aankh ki hai be-khataa dil

خطا ہے آنکھ کی ہے بے خطا دل لڑی یہ تم سے مجرم بن گیا دل یہ کوئی بات ہے اے حضرت عشق جسے دیکھا اسی کو دے دیا دل کھلے گی لن ترانی کی حقیقت کرے گا تیر کا جب سامنا دل حسینوں سے میں دھوکا کھا چکا ہوں کوئی اب لے تو لے مجھ سے مرا دل برا تھا یا بھلا تھا کر دیا نذر کہاں سے لاؤں اب میں دوسرا دل ملے مجھ سے تو فرمانے لگے وہ کہو گستاخؔ اچھا تو رہا دل

غزل · Ghazal

pahle to ghair miri samt se bhar dete hain

پہلے تو غیر مری سمت سے بھر دیتے ہیں پھر مجھے سامنے اس شوخ کے کر دیتے ہیں دست سائل کی طرح شاخیں بڑھی آتی ہیں بوستاں میں تجھے نذریں گل تر دیتے ہیں رات بھر چین سے سوئے جو مرے پہلو میں گالیاں کیوں وہ مجھے وقت سحر دیتے ہیں اور لوگ ان سے جو ملتے ہیں تو خوش رہتے ہیں جاننے والوں کا دم ناک میں کر دیتے ہیں کیا گزرتی ہے خدا جانے عدم والوں پر واں سے خط بھیجتے ہیں یہ نہ خبر دیتے ہیں بوسہ مانگو تو سہی حضرت گستاخؔ ان سے پہلے وہ کرتے ہیں انکار مگر دیتے ہیں

غزل · Ghazal

mujhe jis ne maaraa hai vo dil yahi hai

مجھے جس نے مارا ہے وہ دل یہی ہے وہ دشمن یہی ہے وہ قاتل یہی ہے کبھی تھے بھرے اس میں ارمان لاکھوں اور اب کوئی دیکھے کہ وہ دل یہی ہے مجھے لے گیا شوق جب ان کے در پر پکاری اجل کوئے قاتل یہی ہے تری آنکھ خود کر رہی ہے اشارا کہ منہ چوم لینے کے قابل یہی ہے یہ سب جانتے ہیں کہ تم ہو مسیحا سمجھتے ہیں یہ بھی کہ قاتل یہی ہے یہ رت یہ ہوائیں یہ بادل یہ بجلی پیو کھل کے دنیا کا حاصل یہی ہے پھنسی کشتئ دل جو گرداب غم میں تو قسمت پکاری کہ ساحل یہی ہے جسے کس کے جوڑے میں باندھا ہے تم نے ہزاروں میں کہہ دوں مرا دل یہی ہے سمجھنے لگے مجھ کو دشمن سے بڑھ کر مرے دل لگانے کا حاصل یہی ہے گلے مل کے مجھ سے شب وصل بولے کہ فرقت کی راتوں کا حاصل یہی ہے جو گستاخؔ پہنچے بہشت بریں میں تو سمجھے کہ نواب کیسل یہی ہے

غزل · Ghazal

ghazab hai kisi kaa idhar dekh lenaa

غضب ہے کسی کا ادھر دیکھ لینا ستم ہے بچا کر نظر دیکھ لینا وہ چلنے میں کچھ فرض سا جانتے ہیں ادھر دیکھ لینا ادھر دیکھ لینا سکھائے ہیں یہ ہتکھنڈے تم کو کس نے جو گھر آئے اس کی کمر دیکھ لینا میں پہچان لوں گا تمہیں روز محشر ہے کافی مجھے اک نظر دیکھ لینا جو لکھا کہ آ کر دکھا جاؤ صورت تو لکھتے ہیں کل رات بھر دیکھ لینا کسی وقت دیکھو ہیں گستاخؔ حاضر قیامت ہوا ان کا گھر دیکھ لینا

Similar Poets