SHAWORDS
Gyanendra Pathak

Gyanendra Pathak

Gyanendra Pathak

Gyanendra Pathak

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ملے گا کیا تجھے انساں سرابوں میں بھٹکنے سے بجھے گی پیاس جیون کی اسی کا نام رٹنے سے اندھیرا لاکھ گہرا ہو اجالا آ کے رہتا ہے کوئی شب روک سکتی ہے بھلا سورج کو اگنے سے وہی تو راہ روکے گا جو تیرا ہم سفر ہوگا ہوا ہی روک سکتی ہے فقط گل کو مہکنے سے نہیں جو ہو سکا اپنا کسی بھی موڑ پر پاٹھکؔ کہاں ہے فائدہ اس سے کوئی امید رکھنے سے

milegaa kyaa tujhe insaan saraabon mein bhaTakne se

غزل · Ghazal

اجالا اب نہ سایا رہ گیا ہے دیا بجھ کر کے تنہا رہ گیا ہے یہاں اب کون ہے جو درد بانٹے یہاں اب کون اپنا رہ گیا ہے اتر آئے ستارے سب زمیں پر فلک پر چاند تنہا رہ گیا ہے دیے کی لو یہ شب سے پوچھ بیٹھی ابھی کتنا اندھیرا رہ گیا ہے بجھا ڈالے دیے یادوں کے ہم نے مگر پھر بھی اجالا رہ گیا ہے

ujaalaa ab na saayaa rah gayaa hai

غزل · Ghazal

گمراہ ہم حضور بہت دن نہیں رہے اپنی جڑوں سے دور بہت دن نہیں رہے صدیوں میں جانور سے ہم انساں بنے مگر وحشت کی زد سے دور بہت دن نہیں رہے اس آخری بزرگ کے جانے کے بعد پھر گھر کے ادب شعور بہت دن نہیں رہے جن کو گماں تھا اپنے جوانی کے دور پر وہ سب گماں میں چور بہت دن نہیں رہے بہکے ہمارے دل بھی فسادوں کے دور میں دل میں مگر فتور بہت دن نہیں رہے

gumraah ham huzur bahut din nahin rahe

غزل · Ghazal

نئی زمین نیا فلسفہ تلاش کرو نئی غزل کے لیے کچھ نیا تلاش کرو مرا ضمیر جو رستا مجھے دکھاتا تھا وہ مجھ کو چھوڑ کہاں گم ہوا تلاش کرو وہ ایک شخص جو مجھ کو بہت ہی پیارا تھا کسی نے چھین لیا تم ذرا تلاش کرو قدم قدم پہ ملیں گے بہت سے چوراہے انہیں میں سوچ سمجھ راستہ تلاش کرو وہ جس کا کام ہی پھولوں کو ہار کرنا تھا وہ آدمی تھا میاں کام کا تلاش کرو

nai zamin nayaa falsafa talaash karo

غزل · Ghazal

رام بننا کیا ہنسی پرہاس ہے رام کا جیون کٹھن ونواس ہے ہوں پرستھتیاں بھلے کتنی وکٹ ہم کو لڑنے کا ستت ابھیاس ہے دوند کے اب چھند چاروں اور ہیں اب کہاں منگل کی کوئی آس ہے کرم ہے ویکتتو سے بالکل الگ ہائے رے کتنا ورودھابھاس ہے ایک بھونرا لٹ چکے ادیان میں آج بھی لے کر کے آتا پیاس ہے گاؤں کا پنگھٹ وہ کھن کھن چوڑیاں شیش ان کا آج بس آبھاس ہے

raam bannaa kyaa hansi parihaas hai

غزل · Ghazal

اچھا ہے یا خراب مجھے کچھ پتہ نہیں دنیا ترا حساب مجھے کچھ پتہ نہیں مدت سے نیند آنکھوں میں آئی نہیں مری کہتے ہیں کس کو خواب مجھے کچھ پتہ نہیں اس نے کیا سوال تجھے مجھ سے پیار ہے میں نے دیا جواب مجھے کچھ پتہ نہیں بھیتر سے میرے کوئی مجھے دے رہا صدا ہے کون یہ جناب مجھے کچھ پتہ نہیں آنسو عطا کیے ہیں جو محبوب آپ نے زمزم ہیں یا شراب مجھے کچھ پتہ نہیں اتنا پتہ ہے قرض ترا مجھ پے ہے صنم اس کا مگر حساب مجھے کچھ پتہ نہیں مجھ کو کبھی بھی دن کے اجالے نہیں ملے کیسا ہے آفتاب مجھے کچھ پتہ نہیں ساقی نہ مجھ سے پوچھ مری تشنگی کی حد تھوڑی سی دے شراب مجھے کچھ پتہ نہیں

achchhaa hai yaa kharaab mujhe kuchh pata nahin

Similar Poets