
Haatif Aarifi Fatehpuri
Haatif Aarifi Fatehpuri
Haatif Aarifi Fatehpuri
Ghazalغزل
جس کی جانب تو اک نظر دیکھے خواب تیرے وہ عمر بھر دیکھے چین پایا کہیں نہ اس دل نے گھوم کر ہم نے سو نگر دیکھے داغ مانا ہیں میرے دامن پر اپنا چہرہ بھی وہ مگر دیکھے زہر دیتے رہے مریضوں کو ہم نے ایسے بھی چارہ گر دیکھے لطف چاہے جو کوئی جینے کا اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھے وہ ہی دن بھر رہا خیالوں میں خواب تھے جس کے رات بھر دیکھے حسن بکھرا ہے چار سو ان کا چشم ہاتفؔ کدھر کدھر دیکھے
jis ki jaanib tu ik nazar dekhe
بے وطن ہوں وطن میں آکر بھی جل رہا ہوں چمن میں آکر بھی میری ہستی کا پوچھتے کیا ہو جان بے جاں ہے تن میں آکر بھی پائی ناقدریٔ ادب اکثر ہم نے بزم سخن میں آکر بھی رکھا تیر ستم مری جانب اس نے دیوانہ پن میں آکر بھی بد نمائی نہ چھپ سکی دل کی خوش نما پیرہن میں آکر بھی بے سکوں ہی رہے سدا کی طرح ہم تری انجمن میں آکر بھی حیف پائی نہیں اماں ہاتفؔ شہر والوں نے بن میں آکر بھی
be-vatan huun vatan mein aakar bhi
کل بھی جلے تھے دھوپ میں جلتے ہیں آج بھی ہم لوگ سچ کی راہ پہ چلتے ہیں آج بھی کل بھی مرا وجود تھا دشمن کو ناگوار کچھ لوگ میرے نام سے جلتے ہیں آج بھی حجرے دلوں کے کس لئے تاریک ہو گئے تارے تو آسماں پہ نکلتے ہیں آج بھی ان کی رفاقتوں پہ کریں کیسے اعتبار رخ دیکھ کر ہوا کا بدلتے ہیں آج بھی دشمن ملے تھے پہلے بھی اپنوں کے روپ میں کچھ سانپ آستین میں پلتے ہیں آج بھی انساں کے دکھ پہ آنکھ کیوں انساں کی نم نہیں گو چشمے پتھروں سے ابلتے ہیں آج بھی
kal bhi jale the dhuup mein jalte hain aaj bhi
آدمی گھر سے جب نکلتا ہے خوف کیوں ساتھ ساتھ چلتا ہے جیسے بدلے ہو تم مرے یارو اس طرح بھی کوئی بدلتا ہے حق جتاتا ہے اپنا منزل پر دو قدم جو بھی ساتھ چلتا ہے درس کیسے وفاؤں کا سیکھے طفل جو نفرتوں میں پلتا ہے تو ہے انساں تو سانپ کی صورت زہر ہونٹوں سے کیوں اگلتا ہے گلستاں یوں ہی تو نہیں مہکا خون پی کر ہمارا پلتا ہے آج زندہ ہوں اس طرح ہاتفؔ دیپ آندھی میں جیسے جلتا ہے
aadmi ghar se jab nikaltaa hai
ایک بھی گلستاں نہیں ملتا جس میں تیرا نشاں نہیں ملتا آسماں پر زمیں پہ دریا میں اے خدا تو کہاں نہیں ملتا چین ملتا کہاں پہ اس دل کو گر ترا آستاں نہیں ملتا جو ہو باہر تری قلمرو سے ایسا کوئی جہاں نہیں ملتا لوگ چلتے جو تیرے رستے پر کوئی بھی بے اماں نہیں ملتا رسوا ہاتفؔ جہاں میں ہو جاتا تجھ سا جو رازداں نہیں ملتا
ek bhi gulsitaan nahin miltaa
قاتل یہاں پہ بھائی کا بھائی ہے دوستو دنیا یہ کیسے موڑ پہ آئی ہے دوستو مہر و وفا سے اب ہمیں رغبت نہیں رہی محفل کدورتوں کی سجائی ہے دوستو لٹنے پہ گھر ہمارا وہ ایسے ہیں مطمئن امید ان کی جیسے بر آئی ہے دوستو رکھوں جو دل میں بات تو گھٹتا ہے میرا دم کیسے بتاؤں بات پرائی ہے دوستو داغ جگر چھپا کے نہ رکھوں تو کیا کروں ان سے یہی نشانی تو پائی ہے دوستو ہر قسم کی برائی سے بچنا ہے لازمی چھوٹی ہو یا بڑی ہو برائی ہے دوستو ہر شعر میں ہے ایک حقیقت چھپی ہوئی ہاتفؔ نے یہ غزل جو سنائی ہے دوستو
qaatil yahaan pe bhaai kaa bhaai hai dosto





