Habeeb Aarvi
Habeeb Aarvi
Habeeb Aarvi
Ghazalغزل
is tarah dard kaa tum apne mudaavaa karnaa
اس طرح درد کا تم اپنے مداوا کرنا یاد ماضی کو چراغ رہ فردا کرنا تیری دزدیدہ نگاہی کے میں سو بار نثار دیکھنے والے اسی چاہ سے دیکھا کرنا حشر تک جینے کا ارمان لیے بیٹھا ہوں تم ذرا زیست کے اسباب مہیا کرنا خواہش دید کی توہین ہے جلووں کا خیال میری نظروں کا تقاضا ہے کہ پردا کرنا ایک احسان ہے قدرت کی جفا کاری پر اس کی دنیا میں بھی جینے کی تمنا کرنا میری تسکیں کے لیے پھر کوئی وعدہ کیجے آپ پر فرض نہیں وعدہ کا ایفا کرنا حسن بیتاب ہو خود وصل کی خاطر اے حبیبؔ عشق کو چاہئے انداز وہ پیدا کرنا
hain dhabbe tegh-e-qaatil ke jise dhone nahin dete
ہیں دھبے تیغ قاتل کے جسے دھونے نہیں دیتے مرے احباب تجدید وفا ہونے نہیں دیتے مری وحشت کے سائے جھانکتے رہتے ہیں روزن سے یہ آدم خور مجھ کو رات بھر سونے نہیں دیتے شکست آرزو رسوائی فکر و نظر پیہم یہی حالات مجھ کو آپ کا ہونے نہیں دیتے تقاضائے وفا میں بھی ستم کا ایک پہلو ہے میں رونا چاہتا ہوں اور وہ رونے نہیں دیتے حبیبؔ اپنی خطا تھی ہو گئے رسوا زمانے میں کہ ہم صحن چمن میں بجلیاں بونے نہیں دیتے
yaad jo aae khud sharmaaein uf ri javaani haae zamaane
یاد جو آئے خود شرمائیں اف ری جوانی ہائے زمانے جیٹھ میں بیٹھے ساون گائیں اف ری جوانی ہائے زمانے ہنستے ہنستے روٹھ بھی جائیں اف ری جوانی ہائے زمانے سونا چاندی دونوں کٹائیں اف ری جوانی ہائے زمانے دور جنوں میں یاس کا عالم حشر سے پہلے حشر کا منظر تپتا موسم سرد ہوائیں اف ری جوانی ہائے زمانے دن کا چکر رات کے پھیرے پاؤں دبا کر راہ کا چلنا چور کی صورت خود گھبرائیں اف ری جوانی ہائے زمانے گیت سریلا تان انوکھی نشہ کا عالم کیف سراپا جیسے کنھیا بنسی بجائیں اف ری جوانی ہائے زمانے کس کا ڈر اور کس کا کھٹکا ایک ہی ساحل ایک ہی رستہ سپنوں کی ناؤ کھیتے جائیں اف ری جوانی ہائے زمانے آہ حبیبؔ اس دور کی باتیں خواب کی لذت یاس کا عالم کرتی تھیں اشارے جب لیلائیں اف ری جوانی ہائے زمانے





