Habeeb Aasim
جینے کا تو نے روز نیا مشغلہ دیا اک غم ہٹا نہیں کہ ہمیں دوسرا دیا یہ سوچئے کہ آپ سے دنیا کو کیا ملا مت سوچئے کہ آپ کو دنیا نے کیا دیا ہر ایک میں ہے پیار کی خوشبو بسی ہوئی تو نے تو جو بھی زخم دیا کام کا دیا مایوس زندگی کی تھکن لے کے سو گئے اٹھے تو پھر خدا نے نیا حوصلہ دیا مانوس اس قدر ہیں ترے غم سے ان دنوں ہر اک خوشی کو سایۂ غم میں سلا دیا آئینہ توڑ دے گا وہ چہرے کو دیکھ کر معلوم تھا تو پھر اسے کیوں آئنہ دیا اک شاعر و ادیب کی ہے تم کو جستجو عاصمؔ کا پھر بتاؤ یہ کس نے پتہ دیا
jiine kaa tu ne roz nayaa mashghala diyaa