Habeeb Ahmar
Habeeb Ahmar
Habeeb Ahmar
Ghazalغزل
tiri nigaah kaa chubhtaa huaa savaal mujhe
تری نگاہ کا چبھتا ہوا سوال مجھے کہیں نہ غم کے سمندر میں دے اچھال مجھے میں ایک لمحۂ کمزور کے حصار میں ہوں شکستگی نہ کہیں کر دے پائمال مجھے بکھرنے والا ہوں موسم کی گرم سانسوں سے نہال سبز تو باہوں میں اب سنبھال مجھے میں ایک قطرۂ شبنم مرا وجود ہی کیا کرن کی نوک ہی کر دے گی پائمال مجھے شجر سے برگ گل زرد نے کہا احمرؔ کرم ترا کہ تو سمجھے شریک حال مجھے
har ek abr ke TukDe ko baal-o-par degaa
ہر ایک ابر کے ٹکڑے کو بال و پر دے گا شجر شجر کو یہ موسم نیا ثمر دے گا وہ میری قبر پہ اک مشت خاک دے آیا جسے تھا دعویٰ کے مانگوں تو بحر و بر دے گا نہال درد کو اشکوں سے سینچتے رہنا غموں کی دھوپ میں سایہ یہی شجر دے گا پتہ شعور کی تہہ میں چھپے صدف کا ہمیں ہماری ذات میں بنتا ہوا بھنور دے گا خیال و فکر کو تیری نئی قبا احمرؔ یہ حرف و صوت نہیں بس ترا ہنر دے گا
DhunDne nikle the apnaa naam kis armaan se
ڈھونڈنے نکلے تھے اپنا نام کس ارمان سے ہم صداؤں کے نگر میں رہ گئے انجان سے انگلیاں یادوں کی تھامے ہم گزرتے ہی گئے راستے میں موڑ ملتے ہی گئے سنسان سے دے رہا ہوں عمر کے حاصل کو افسانے کا روپ ٹوٹتے لمحے بکھرتی ریت کے عنوان سے دوستوں نے شہ بھی دی ہشیار تھے ہم بھی مگر فیل گھوڑے پٹ گئے پھر بھی رہے انجان سے وقت کی جب دھوپ احمرؔ چڑھ گئی دیوار پر اپنا سایہ دیکھ کے ہم رہ گئے حیران سے





