Habeeb Jaunpuri
Habeeb Jaunpuri
Habeeb Jaunpuri
Ghazalغزل
kisi tarah bhi vo takmil-e-muddaaa karte
کسی طرح بھی وہ تکمیل مدعا کرتے وفا کی خو جو نہیں تھی تو پھر جفا کرتے ادائے حسن تو طالب ہے جاں سپاری کی کلیم کیسے تجلی کا سامنا کرتے تمام عمر خدا سے یہی دعا مانگی وہ دن بھی آتا جو وہ مجھ سے التجا کرتے ہمیں کسی کی طلب کا بھرم تو رکھنا تھا جو ہم یہ جان نہ دیتے تو اور کیا کرتے فقط تحفظ کشتی کا دھیان تھا ورنہ ہم اور منت احسان ناخدا کرتے ذرا بتائیں جو فرقت میں ہم پہ بیت گئی یہ وقت آپ پہ پڑتا تو آپ کیا کرتے میں ان کے لب کی دعا کا اٹھاؤں کیوں احسان جو دیکھنے کو نہ آئے وہ کیا دعا کرتے وفا ہے آج بھی ہل من مزید کی طالب حبیبؔ مر گئے کتنے وفا وفا کرتے
shaam-e-vaada gaah ronaa gaah hansnaa dekhte
شام وعدہ گاہ رونا گاہ ہنسنا دیکھتے آپ تو آئے نہیں ورنہ تماشا دیکھتے حوصلہ دل کا اٹھا کر تم یہ پردا دیکھتے جذب کر لیتے تمہیں اپنے میں اتنا دیکھتے اپنی صورت اپنا پرتو اپنا جلوہ دیکھتے آپ دل کو توڑ دیتے تو تماشا دیکھتے دید کی حسرت تھی موسیٰ ذوق نظارہ نہ تھا ورنہ اپنے آئنے میں ان کا جلوہ دیکھتے خود بڑھے تھے وہ ہماری سمت پیمانہ بکف دیکھتے ان کا کرم یا روئے توبہ دیکھتے چار دن میں اپنی صورت ہی نہ پہچانی گئی ہم کہاں سے زندگی لاتے کہ دنیا دیکھتے سر جھکا کر لے گیا گردن پہ خود خون وفا کس طرح چہرے سے ان کے رنگ اڑتا دیکھتے روک لی چلو میں توبہ توڑ کر بے اختیار ہائے کن آنکھوں سے ہم ساغر چھلکتا دیکھتے کاش جو انجام موسیٰ پر ہیں نازاں اے حبیبؔ ایک دن میرا بھی وہ ذوق نظارہ دیکھتے
ye shaan-e-vafaa gham ki hikaayat se mili hai
یہ شان وفا غم کی حکایت سے ملی ہے دولت مجھے یہ درد محبت سے ملی ہے عالم کو بہاراں ہے کئے اس کی تمنا گلشن کو مہک پھول کی صحبت سے ملی ہے اک حشر ہے اس کا کسی کوچے سے گزرنا رفتار کی حد حد قیامت سے ملی ہے ذرے سے جو سنتا ہوں میں سورج کی کہانی یہ آگہی مدت کی ریاضت سے ملی ہے مشکل کی ہر اک شکل پہ میرا ہے تصرف مجھ کو یہ سند شاہ ولایت سے ملی ہے اس قوم کے اب کوئی بھٹکنے کا نہیں ڈر منزل جسے صدیوں کی مسافت سے ملی ہے تم یاد نہ رکھو مجھے لیکن یہ رہے یاد شہرت تمہیں میری ہی محبت سے ملی ہے
ye to mumkin na thaa vafaa karte
یہ تو ممکن نہ تھا وفا کرتے آپ مل کر بھی مجھ سے کیا کرتے ڈر گئے برق کی چمک سے کلیم بات تو جب تھی سامنا کرتے آ تو جاتے کہ وقت آخر تھا میرے مرنے ہی کی دعا کرتے نہ ملے وہ نہ حسرتیں نکلیں کٹ گئی عمر مدعا کرتے ہجر محبوب کا علاج تو تھا زخم حسرت کی کیا دوا کرتے جو ہیں نا آشنائے حرف وفا وہ کسی سے کہاں وفا کرتے ان کے آنے سے میں نہ جی جاتا رسم دنیا تو وہ ادا کرتے خلق کی یہ صدا بھی سن لو حبیبؔ سفر دشت کربلا کرتے
jis kaa mujhe armaan hai vo aksar nahin miltaa
جس کا مجھے ارماں ہے وہ اکثر نہیں ملتا میں ہوش میں ہوں اور مجھے گھر نہیں ملتا انسان سے رخصت ہوا معیار فضیلت دستار تو لاکھوں ہیں مگر سر نہیں ملتا پیشانیاں ڈھونڈیں تو کہاں اپنا ٹھکانہ سجدوں کا جو مرکز تھا وہی در نہیں ملتا جو چاہے سنے ہے یہ مرے قلب کی آواز جو حق ہے مرا سب کے برابر نہیں ملتا جب تک طلب صبر تھی دل نے نہ دیا ساتھ اب ذوق ستم ہے تو ستم گر نہیں ملتا دیوانگئ شوق کا کیسے ہو نظارہ سر پھوڑنا چاہوں بھی تو پتھر نہیں ملتا تم کو تو حبیبؔ اس نے صدا دی ہے کئی بار ایسا تو کسی کو بھی مقدر نہیں ملتا
taqdir bigaDti jaati hai go baat banaae jaate hain
تقدیر بگڑتی جاتی ہے گو بات بنائے جاتے ہیں وہ اتنا ہی روٹھے جاتے ہیں ہم جتنا منائے جاتے ہیں اب جا کے نہیں آنے والے کچھ طور پہ پائے جاتے ہیں ہنستے ہیں تسلی دینے کو اور اشک بھی آئے جاتے ہیں رہ رہ کے دھڑک اٹھتا ہے جگر اور سانس بھی اکھڑی جاتی ہے اے موت ٹھہر تعجیل نہ کر دم بھر میں وہ آئے جاتے ہیں باتوں میں مروت کے رشتے وہ توڑ رہے ہیں ہنس ہنس کر آنکھوں سے محبت کے ساغر رہ رہ کے پلائے جاتے ہیں ان کو ہے چمن سے کیا مطلب یا پھول کھلیں یا آگ لگے جن تنکوں نے رشتہ جوڑا تھا چن چن کے جلائے جاتے ہیں بتلائیں حبیبؔ اک راز تمہیں کیا شام فراق میں ہائے چراغ کس طرح جلائے جاتے ہیں کس طرح بجھائے جاتے ہیں





