Habeeb Rahat Habab
nafas nafas na kahin jaae raaegaan apnaa
نفس نفس نہ کہیں جائے رائیگاں اپنا ہوا کی شاخ پہ رکھا ہے آشیاں اپنا ہمارے خواب میں کمخواب ہے نہ ریشم ہے یقیں یقیں ہی رہا ہے نہ اب گماں اپنا عبا قبا تو ہے شاہوں کی چونچلے بازی قلندروں کا ہے سب سے الگ جہاں اپنا ترے خلوص کے ہاتھوں بکے ہوئے ہیں ہم نہ سود سود ہے اپنا نہ ہے زیاں اپنا نگاہ ناز نے بے خود کیا ہے جس دن سے متاع جسم ہے اپنی نہ زاد جاں اپنا کیا ہے چاند پہ بسنے کا عہد جب اس نے زمین ڈھونڈھتی پھرتی ہے آسماں اپنا وہیں وہیں سے نمو پائے گی مری ہستی لہو حبابؔ گرا ہے جہاں جہاں اپنا