SHAWORDS
Habiba Ikram

Habiba Ikram

Habiba Ikram

Habiba Ikram

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

بے سبب آنکھ اشک بار نہیں تیری نظروں میں اب وہ پیار نہیں کاش ایسا بھی کوئی گلشن ہو صرف غنچہ ہوں جس میں خار نہیں آج اظہار حال کرنے دو اب ہمیں دل پہ اختیار نہیں جس کو دیکھو وہی تڑپتا ہے عشق میں کون بے قرار نہیں کھو گئے راہ دیکھنے والے اب کسی کو بھی انتظار نہیں بے حس و بے وفا ہے یہ دنیا اور تو بھی وفا شعار نہیں

be-sabab aankh ashk-baar nahin

غزل · Ghazal

خود کو ایسے میں بھی سنبھالا ہے ساتھ اندھیرا ہے دور اجالا ہے کوئی پوچھے تو اتنا کہہ دوں گی تیری فرقت نے مار ڈالا ہے میری مٹی میں تھوڑی تبدیلی کوئی کمہار کرنے والا ہے اس کے ہاتھوں پہ کر لی ہے بیعت جس کا ہر بات میں حوالہ ہے آج اس میں الجھ نہ جاؤں کہیں تیری آنکھوں میں دکھ کا ژالہ ہے ایک کاسہ کہیں فقیر کا تھا اس نے سکہ کہیں اچھالا ہے

khud ko aise mein bhi sanbhaalaa hai

غزل · Ghazal

کچھ بھی تو اپنا نہیں سارا جہاں ہوتے ہوئے آشیانہ ڈھونڈھتی ہوں آشیاں ہوتے ہوئے نا خلف اولاد نے سر کی ردا بھی چھین لی آج بھی میں دھوپ میں ہوں سائباں ہوتے ہوئے ہر خوشی حاصل ہے یوں تو ساری دنیا کی مجھے نم ہیں پھر کیوں میری آنکھیں شادماں ہوتے ہوئے لاکھ ہیں قسمت میں اپنی در بدر کی ٹھوکریں کام آ جاتی ہوں پھر بھی رائیگاں ہوتے ہوئے راز دل کھلتا نہیں ہے جب کسی صورت کبھی بولنے لگتی ہیں آنکھیں بے زباں ہوتے ہوئے

kuchh bhi to apnaa nahin saaraa jahaan hote hue

غزل · Ghazal

یہ زندگی جو ہمیں لے کے ساری رات چلی ہماری چشم بصیرت بھی ساتھ ساتھ چلی وہ جب سے چھوڑ گیا تشنگی کی وادی میں یہاں سے چشمۂ رحمت لئے حیات چلی پھر آج ساری امیدوں پہ پھر گیا پانی تمام دن کی مشقت بھی خالی ہاتھ چلی ہماری روح پہ دنیا نے کب نظر ڈالی ہمارے حسن کی بس لے کے یہ زکوٰۃ چلی وہ لفظ لفظ غزل میں مری اترتا رہا تمام رات جو بزم تخیلات چلی جبین عشق کو معراج مل گئی جب سے ہمارے ساتھ کلید رہ نجات چلی

ye zindagi jo hamein le ke saari raat chali

غزل · Ghazal

جو آ رہی ہے بدن سے کمال کی خوشبو مری رگوں میں ہے رزق حلال کی خوشبو اسی کے دم سے معطر ہے کاروان حیات ہے میرے گھر میں جو اہل و عیال کی خوشبو زباں پہ ہیں وہی کلمہ وہی ہے سوز مگر کہاں سے لاؤں اذان بلال کی خوشبو جئیں گے اور کہاں تک ہم اپنے ماضی میں ہمیں تو چاہئے اب اپنے حال کی خوشبو نہ آیا دل میں کسی اور کا خیال کبھی بسی ہے جب سے تمھارے خیال کی خوشبو تو اپنے فضل و کرم سے قبول کر یا رب حبیبہؔ لائی ہے دست سوال کی خوشبو

jo aa rahi hai badan se kamaal ki khushbu

غزل · Ghazal

کہاں گئے ہیں وہ کس کے گھر آنے والے تھے جو حسرتوں کے جنازے اٹھانے والے تھے انہیں نے آنکھوں میں سیلاب کر دیا برپا لبوں پہ جن کے تبسم سجانے والے تھے وہ دو قدم بھی مرے ساتھ چل نہیں پائے تمام عمر جو رشتے نبھانے والے تھے امیر لہروں نے مسمار کر دیا ورنہ وفا کی ریت پر اک گھر بنانے والے تھے حبیبہؔ ان کی گزارش نے روکے رکھا تھا ہم ان کی بزم سے اٹھ کر کے جانے والے تھے

kahaan gae hain vo kis ke ghar aane vaale the

Similar Poets