
Hadeed Fatema
Hadeed Fatema
Hadeed Fatema
Ghazalغزل
تمہارے بن گزارا ہو رہا ہے مگر یہ دل تمہارا ہو رہا ہے ادھر اس دل کو عادت ہو رہی ہے ادھر ہم سے کنارا ہو رہا ہے تجھے ہر شخص پیارا ہو رہا ہے یہ دل کو کب گوارہ ہو رہا ہے کہ رہ کر دور بھی تجھ سے مری جاں خسارہ تو ہمارا ہو رہا ہے متاع جاں تمہارا خواب تھا جو مری آنکھوں کا تارا ہو رہا ہے
tumhaare bin guzaaraa ho rahaa hai
عشق آزار لگ رہا ہے مجھے دل یہ بیمار لگ رہا ہے مجھے چبھ رہی اب ہیں ساری خوشبوئیں پھول بھی خار لگ رہا ہے مجھے غم میں رویا ہے ساتھ میرے سو آسماں یار لگ رہا ہے مجھے خود ہوں بیزار اور ہر اک شخص خود سے بیزار لگ رہا ہے مجھے دل ہے ویران اور جہاں سارا غم کا بازار لگ رہا ہے مجھے
ishq aazaar lag rahaa hai mujhe
غزل غم کی اک ہم سنانے لگے ہیں بھری بزم کا دل دکھانے لگے ہیں مرے سارے اپنے حریفوں سے مل کر میرا ضبط پھر آزمانے لگے ہیں محبت کی باتیں جو کرتے تھے مجھ سے مجھے چھوڑ کر اب وہ جانے لگے ہیں تری آس میں ہی چلا جا رہا ہوں وگرنہ یہ رستے تھکانے لگے ہیں تمہیں دل سے ہم نے نکالا نہیں پر سبھی خط تمہارے جلانے لگے ہیں پرانے تھے جو غم انہیں بھول کر اب نئے خواب پھر ہم سجانے لگے ہیں یہ دنیا نہیں ہے جگہ دل لگی کی سو دل ہم خدا سے لگانے لگے ہیں
ghazal gham ki ik ham sunaane lage hain
پہلے لگتا تھا بن تیرے مر جاؤں گا تو نے چھوڑا تو پھر میں کدھر جاؤں گا تو بھی لگتا ہے مجھ کو زمانے سا ہی تیرے دل سے بھی اک دن اتر جاؤں گا تیری عادت نے مجھ کو بگاڑا ہے پر ایک دن دیکھنا میں سدھر جاؤں گا پھر ترے پاس سے دیکھنا کیسے میں تجھ کو دیکھے بنا ہی گزر جاؤں گا آج باتوں میں ہوں تیری نظروں میں ہوں جلد دل میں ترے ہو امر جاؤں گا تیری نظر کرم کی ہی بس دیر ہے یہ جو بگڑا ہوا ہوں سنور جاؤں گا اس کی یادیں رہیں گی مرے ساتھ ساتھ شہر یہ چھوڑ کر اب اگر جاؤں گا ایک دن چھوڑ یہ غم زدوں کا جہاں بن میں گزری پرانی خبر جاؤں گا بن کے بادل ہواؤں کے سنگ اڑ کے میں ڈھونڈنے تجھ کو ہر اک نگر جاؤں گا کیا کہا تجھ کو مجھ پر بھروسہ نہیں تجھ کو لگتا ہے کہ میں مکر جاوں گا ہوں محبت محبت محبت ہوں میں تیرا دل تو نہیں ہوں جو بھر جاؤں گا آج خوشبو مری ہوگی کل چھاؤں بھی پھول ہوں آج کل بن شجر جاؤں گا
pahle lagtaa thaa bin tere mar jaaungaa





