SHAWORDS
H

Hafeez Aatish

Hafeez Aatish

Hafeez Aatish

poet
7Ghazal

Ghazalغزل

See all 7
غزل · Ghazal

ہم جب تعصبات کی رو میں نکل گئے کتنے نئے مکان محلے کے جل گئے گھر سے نکل کے دیکھیں کھلے آسمان میں تبدیل ہم ہوئے ہیں کہ موسم بدل گئے یہ بحث ہی فضول کہ کھوٹے تھے یا کھرے سکے تھے چلنا ان کا مقدر تھا چل گئے رستے پہ اک ضعیف کے چہرے کو دیکھ کر کیا کیا خیال ذہن کے گوشوں میں پل گئے پہچاننے میں آتا نہیں ہے اب اپنا شہر دو چار سال میں سبھی نقشے بدل گئے

ham jab ta’assubaat ki rau mein nikal gae

غزل · Ghazal

آئنوں کی بھیڑ میں پتھر رہے بدنام بھی آئنوں کو پڑ رہا ہے پتھروں سے کام بھی تو خدا ہے تو مکمل کیوں نہیں کرتا مجھے ورنہ مجھ سے چھین لے یہ میرا استحکام بھی میں اکیلا ہی نہیں ہوں اس ستون دار پر ہے مرے ہم راہ اک ادراک بھی انجام بھی ابتدا بھی ان کھلونوں کی اسی مٹی سے ہے مسکراتا ہے یہیں بیٹھا کہیں انجام بھی

aainon ki bhiiD mein patthar rahe badnaam bhi

غزل · Ghazal

کیا خبر تھی کہ خطا یوں بھی نشانے ہوں گے یہ نئی نسل کے بھی لوگ پرانے ہوں گے سخت سکوں کی کھنک گونج رہی ہے ہر سو نرم پیروں کو ابھی رقص دکھانے ہوں گے دل بھی چاہے ہے کہ بھر جاؤں کوئی اونچی اڑان گھٹ کے رہ جانے میں بھی کون ٹھکانے ہوں گے اتنی آسانی سے یہ ختم نہ ہوں گی سانسیں زندگی اور تجھے خواب دکھانے ہوں گے سرخ شعلوں کی زباں چاٹ نہ جائے بستی شہر در شہر یہ احساس جگانے ہوں گے

kyaa khabar thi ki khataa yuun bhi nishaane honge

غزل · Ghazal

میں بھی ذرا خموش تھا تم بھی اداس تھے اک دوسرے کے دونوں ہی کچھ آس پاس تھے چہرے بھی مسخ ہو گئے روحوں کے ساتھ ساتھ کیا جانے کس طرح کے وہ زریں لباس تھے اونچی عمارتیں بھی بنیں گی وبال جان کچھ اپنے ساتھ اوروں کے بھی یہ قیاس تھے اڑتے ہوئے جو دھوپ میں اترے تھکے پروں تالاب خشک اور وہ صدیوں کی پیاس تھے عقل و نظر سے اور بھی دشواریاں بڑھیں اچھا تھا جب ٹھکانے نہ ہوش و حواس تھے

main bhi zaraa khamosh thaa tum bhi udaas the

غزل · Ghazal

کہنے کے لیے کیوں کوئی تیار نہیں ہے دنیا ہے یہاں کون اداکار نہیں ہے جنگل کی طرف لوٹ رہے ہیں یہ پرندے اب شہر میں گنجائش اشجار نہیں ہے گھر اور اجاڑے گی ابھی اندھی سیاست سر پر ٹنگی ان کے کوئی تلوار نہیں ہے اک خوف مسلط ہے جو جینے نہیں دیتا حالانکہ وطن کا وہ بھی غدار نہیں ہے تاریخ بھلا دیتی ہے ان قوموں کو اکثر دیوانہ کوئی جن میں سر دار نہیں ہے اطراف کے ماحول سے کچھ سیکھ لو آتشؔ تنہا جو نظر آئے سمجھدار نہیں ہے

kahne ke liye kyon koi tayyaar nahin hai

غزل · Ghazal

جب جب مجھے ملی ہے وہ بیمار سی لگی طوفاں کے بیچ ریت کی دیوار سی لگی اس نے کئی حوالے اچھالے جو ایک ساتھ دیمک زدہ کتابوں کا انبار سی لگی آنکھوں کو بات کہنے کا انداز آ گیا کم گوئی اپنے آپ میں غم خوار سی لگی گو خود سپردگی کا وہ عالم بھلا لگا لیکن طبیعتاً وہ اداکار سی لگی اس بھیڑ میں تو جینے کی یہ آرزو مجھے سر پر ٹنگی ہوئی کوئی تلوار سی لگی سب رنگ اپنی بانہوں میں تنہا سمیٹ لوں خواہش کی یہ طلب بھی گنہ گار سی لگی

jab jab mujhe mili hai vo bimaar si lagi

Similar Poets