Hafeez Jauhar
Hafeez Jauhar
Hafeez Jauhar
Ghazalغزل
haath mein hai ik puraani Diary
ہاتھ میں ہے اک پرانی ڈائری کھولنے بیٹھا ہوں گرہیں یاد کی اس سے وعدہ ہے ملیں گے شام کو شام کتنی دیر کے بعد آئے گی ہم نے سوچا تھا چلیں گے سیر کو راستوں نے پھر سفیدی اوڑھ لی گرم کمروں سے نکلتا کون ہے محفلیں اجڑی ہوئی ہیں شہر کی چبھ رہی ہے میری آنکھوں میں بہت چار سو پھیلی ہوئی بے منظری پیار کی خوشبو سے خالی نسبتیں رابطے سب دل کے رنگوں سے تہی اک تعلق بنتے بنتے رہ گیا کھلتے کھلتے اک کلی مرجھا گئی
khvaahish se jab rang utarne lagte hain
خواہش سے جب رنگ اترنے لگتے ہیں موسم اپنے اندر مرنے لگتے ہیں اک بادل کو دیکھ کے دشت کی آنکھوں میں سیرابی کے خواب سنورنے لگتے ہیں جب دریا کی چال سمجھ میں آتی ہے لوگ کناروں پر بھی ڈرنے لگتے ہیں دن کٹتا ہے سورج کی ہم راہی میں شب کو دل کے داغ بھی جلنے لگتے ہیں اس کا فون نہیں ملتا تو اکثر ہم اپنے آپ سے باتیں کرنے لگتے ہیں
kyaa bataaein kyaa kamaayaa ishq mein
کیا بتائیں کیا کمایا عشق میں درد ہے دل میں نہ آنکھوں میں نمی قرب میں جس کے گزارے روز و شب اجنبی ہے اتنے برسوں بعد بھی تھا مرے دل میں کبھی اس کا مکاں میں نے جس کو دور سے آواز دی اب تو وہ موسم پرانے ہو گئے اب تو وہ باتیں ہیں ساری خواب کی ربط جوہرؔ ان سے اتنا رہ گیا فون کی گھنٹی بجی بجتی رہی
be-numud dard ki numaaish kyon
بے نمود درد کی نمائش کیوں دل سے کرتی ہے آنکھ سازش کیوں غم جو لکھا ہوا ہے چہرے پہ کوئی پڑھ لے تو اس سے رنجش کیوں وہ جو ہر زاویے سے دل میں ہے اس کو پھر دیکھنے کی خواہش کیوں خواب تازہ جگائے آنکھوں میں ہم پہ موسم کی یہ نوازش کیوں سب کو اپنے ہی کام تھے اس سے کوئی کرتا مری سفارش کیوں





