SHAWORDS
Hafiz Karnataki

Hafiz Karnataki

Hafiz Karnataki

Hafiz Karnataki

poet
25Ghazal

Ghazalغزل

See all 25
غزل · Ghazal

ہم نے تری طلب کو تمنا بنا لیا پڑھ پڑھ کے تیرا نام وظیفہ بنا لیا ہموار کر لی پہلے ترے دل کی سرزمیں اور پھر یہاں پہ اپنا ٹھکانہ بنا لیا جس کے کنارے بیٹھ کے کرتا تھا تم سے بات میں نے تو اس ندی سے بھی رشتہ بنا لیا ہم تو ہمارے دل کو نہ اپنا بنا سکے لیکن بنانے والوں نے کیا کیا بنا لیا ہر سانس پہ ہے موت کا دھڑکا لگا ہوا قاتل کو زندگی نے مسیحا بنا لیا ہم شاطروں کے شہر میں بے مول بک گئے ہم کو سیاسی لوگوں نے مہرا بنا لیا خوشبو سے روز خط لکھا حافظؔ ہوا کے نام پتوں کو موڑ دے کے لفافہ بنا لیا

ham ne tiri talab ko tamanna banaa liyaa

غزل · Ghazal

یہ مہکتے ہوئے جذبات یہ اشعار کے پھول کاش کام آئیں کسی کے مرے افکار کے پھول میرے دل نے جو سجا رکھے ہیں زخموں کی طرح کھل نہ پائے کسی گلشن میں وہ معیار کے پھول سونگھتی ہیں انہیں خوش ہو کے بہشتی حوریں سرفروشوں کے بدن پر ہیں جو تلوار کے پھول یہ مرے اشک ندامت ہیں خدا کو محبوب دنیا والوں کی نگاہوں میں ہیں بیکار کے پھول مجھ کو تحفے میں عطا اس نے کیے ہیں حافظؔ کبھی انکار کے کانٹے کبھی اقرار کے پھول

ye mahakte hue jazbaat ye ashaar ke phuul

غزل · Ghazal

ہم نے سیکھا ہے محبت کرنا ایک اک دل پہ حکومت کرنا ہم بھی تاریخ بدل سکتے ہیں شرط ہے ہمت و جرأت کرنا زیب دیتا نہیں انسانوں کو کسی انساں کی عبادت کرنا رکھ کے خود اپنی ضرورت کو ادھار پوری اوروں کی ضرورت کرنا شب کی تاریکی میں سیکھا ہم نے چاند تاروں کی تلاوت کرنا آخری سانس تلک جیون کی مرد کی شان ہے محنت کرنا فرض سے حج کے ہے افضل حافظؔ بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنا

ham ne sikhaa hai mohabbat karnaa

غزل · Ghazal

مری وفا کی وہ پہچان بھی نہیں رکھتے صلہ تو دور ہے احسان بھی نہیں رکھتے وہ برکتوں کے فرشتوں کے انتظار میں ہیں گھروں میں اپنے جو قرآن بھی نہیں رکھتے جنہیں خلوص کی خوشبو عزیز ہوتی ہے وہ اپنی میز پہ گلدان بھی نہیں رکھتے وہ حادثوں سے ڈراتے ہیں اپنے بچوں کو دیوں کے سامنے طوفان بھی نہیں رکھتے بڑے عجیب مسافر ہیں ہم بھی اے حافظؔ سفر پہ نکلے ہیں سامان بھی نہیں رکھتے

miri vafaa ki vo pahchaan bhi nahin rakhte

غزل · Ghazal

یہ راز کوئی جاننے والا بھی نہیں ہے سورج کی وراثت میں اجالا بھی نہیں ہے سو رستے کمانے کے نظر آتے ہیں لیکن کھانے کے لیے ایک نوالہ بھی نہیں ہے لب نام ترا لینے سے کترانے لگے ہیں حالانکہ تجھے دل سے نکالا بھی نہیں ہے کیوں سرخ ہوا ہے یہ فلک آج سر شام میں نے تو لہو اپنا اچھالا بھی نہیں ہے وہ لفظ ہوں میں جو نہ ادا ہو سکا حافظؔ وہ بات ہوں میں جس کا حوالہ بھی نہیں ہے

ye raaz koi jaanne vaalaa bhi nahin hai

غزل · Ghazal

ہم ہوئے سارے زمانے سے خفا تیرے لیے ظلم کیا کیا نہ سہے جان ادا تیرے لیے تیرے پروانے کی جاں لے کے رہا وہ آخر ہم نے چاہت کا جلایا جو دیا تیرے لیے خود سے بڑھ کر بھی کبھی ہم نے تجھے چاہا ہے لب پہ روشن رہی ہر وقت دعا تیرے لیے رات دن ہم نے بہائے ہیں لہو کے آنسو کی ہے منظور سسکنے کی ادا تیرے لیے دوستی تجھ سے جو کی ہو گئی دشمن دنیا عشق کے نام پہ کیا کیا نہ ہوا تیرے لیے تیری ہر بات کو مانا کیے حامی بھر لی ہم ہوئے پیکر تسلیم و رضا تیرے لیے تیری خاطر کیا سمجھوتہ جہاں سے حافظؔ ہم نے برداشت کی توہین انا تیرے لیے

ham hue saare zamaane se khafaa tere liye

Similar Poets