SHAWORDS
H

Hafizullah Khan Badr

Hafizullah Khan Badr

Hafizullah Khan Badr

poet
4Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

ye zakhm-haa-e-gham-e-mohabbat ye daagh-haa-e-gham-e-zamaana

یہ زخم ہائے غم محبت یہ داغ ہائے غم زمانہ انہیں چراغوں کے دم سے روشن رہا ہے دل کا غریب خانہ وہ فتنے جاگ اٹھے آنکھ ملتے وہ زلزلے لے رہے ہیں کروٹ ذرا تصور میں آ گیا تھا خیال تعمیر آشیانہ کبھی شکایت کہ بے وفا ہوں کبھی خفا عرض مدعا پر مرے ستانے کو مل ہی جاتا ہے آپ کو کچھ نہ کچھ بہانہ انہیں پہ ہے لطف برق و باراں کرم انہیں پر ہے باغباں کا مرے نشیمن کے چار تنکے ہیں مرکز گردش زمانہ یہ کہنہ سالی میں بدرؔ تم کو غزل سرائی کی خوب سوجھی نہ اب وہ رنگینیٔ تخیل نہ اب وہ جذبات شاعرانہ

غزل · Ghazal

ye mai-khaana baraa-e-mai-kashaan hotaa to kyaa hotaa

یہ مے خانہ برائے مے کشاں ہوتا تو کیا ہوتا انہیں کے واسطے پیر مغاں ہوتا تو کیا ہوتا لٹا دی دولت ہوش و خرد تو مدعا پایا ہمیں اندیشۂ سود و زیاں ہوتا تو کیا ہوتا ہمیں تو آزمایا تم نے اور ثابت قدم پایا رقیب رو سیہ کا امتحاں ہوتا تو کیا ہوتا سراپا زینت بزم رقیباں بن کے بیٹھے ہو کبھی ایسا برائے دوستاں ہوتا تو کیا ہوتا نہ قیصرؔ ہے نہ کیفیؔ ہے نہ عاصیؔ ہے نہ شائقؔ ہے کوئی اب شاعر شعلہ بیاں ہوتا تو کیا ہوتا بساط آشیاں کیا برق یہ تو چار تنکے ہیں تری زد میں پہ سارا گلستاں ہوتا تو کیا ہوتا

غزل · Ghazal

maujon mein maza aataa ho jise girdaab se larzaan kyaa hogaa

موجوں میں مزہ آتا ہو جسے گرداب سے لرزاں کیا ہوگا جو بندۂ ساحل بن کے رہے لذت کش طوفاں کیا ہوگا جو عمر کٹے بے کیفی میں بے لطفی میں بے رنگی میں اس قصے کی سرخی کیا ہوگی اس زیست کا عنواں کیا ہوگا روداد قفس کیا خاک کہیں جب تک بھی رہے یہ فکر رہی انجام نشیمن کیا ہوگا انجام گلستاں کیا ہوگا ہے اپنا جنون عشق فزا ہر قید مکاں سے بالاتر ممنون گلستاں کیا ہوگا پابند بیاباں کیا ہوگا بیگانۂ بیم و رجا ہو کر تقدیر بنائیں آپ اپنی یہ فکر دلیل پستی ہے انجام گلستاں کیا ہوگا واں ضد ہے کہ بے مانگے نہ ملے یاں حسن طلب بھی ہے بدعت رحمت کے لئے بھی شرطیں ہوں تو عفو کا ارماں کیا ہوگا یہ طرز جہاں یہ خون وفا یہ ہم نفسوں کی بے مہری تکمیل تمنا ہو نہ سکی تو زیست کا ساماں کیا ہوگا رنگین جوانی ہی کب تھی خیر اب تو بڑھاپا آیا ہے چالیس کے پیٹھے میں آخر اب بدرؔ غزل خواں کیا ہوگا

غزل · Ghazal

na ye zamin hai apni na aasmaan apnaa

نہ یہ زمین ہے اپنی نہ آسماں اپنا الگ بنائیں ہم اپنے لئے جہاں اپنا خیال شکوۂ زنداں کسے اے باد چمن نہیں بہار سے کم موسم خزاں اپنا چمن کا لطف ہی کیا جب کہ بال و پر نہ رہے بنا لیا ہے قفس ہی کو آشیاں اپنا ہیں سخت جان ہم ان کی کلائیاں نازک یہ امتحان ہے ان کا کہ امتحان اپنا ہے زندگی بھی یہی لطف زندگی بھی یہی خدا کرے کہ نہ ہو ختم امتحان اپنا

Similar Poets