Haider Fikri
Haider Fikri
Haider Fikri
Ghazalغزل
واقعہ سچ ہی سہی ہم کہہ کے پچھتائے بہت دوستوں نے پتھروں کے پھول برسائے بہت آنکھ اٹھا کے ہم نے دیکھا ہی نہیں خود کو کبھی گردش ایام نے آئینے دکھلائے بہت ایک دل ہے رنج و غم کی بستیوں کے درمیاں ایک گھر کے واسطے ہیں اتنے ہمسائے بہت جانے کیسا تھا سفر منزل کہاں پر رہ گئی ہم حدود ذات سے آگے نکل آئے بہت توبہ آغاز محبت کی کشاکش کشمکش ہم بھی گھبرائے بہت اور وہ بھی شرمائے بہت کیا عجب ہے آسماں سے خون کی بارش ہوئی کھیت جلتے ہی رہے دریا تو لہرائے بہت
vaaqia sach hi sahi ham kah ke pachhtaae bahut
جستہ جستہ موج طوفانی میں تھا عکس اس کا ہم سفر پانی میں تھا کیا یہ مسجود ملائک ہے وہی خالق کونین حیرانی میں تھا تیغ پر جس کے تھا سورج کا لہو شام کو وہ مرثیہ خوانی میں تھا رخ پہ زلفوں کی گھٹا چھائی ہوئی چاند گویا نیم عریانی میں تھا تیرگی تھی بس چراغوں کے تلے اور گرد و پیش تابانی میں تھا جان اپنی نظر کی جس دوست پر وہ بھی حیدرؔ دشمن جانی میں تھا
jasta jasta mauj-e-tufaani mein thaa





