Hakeem Mohammad Husain Ahqar
باد صرصر ہے نسیم گلستاں میرے لیے بن گیا کنج قفس اب آشیاں میرے لیے زاہدو تم کو مبارک خانۂ کعبہ رہے کافی ہے سجدے کو سنگ آستاں میرے لیے ساغر و مینا سبو و جام کا اب ذکر کیا دشمن جاں ہو گیا پیر مغاں میرے لیے واہ رے گردون گرداں تیرا شوق انتظام ہو گئی ہے زندگی بار گراں میرے لیے درد دل کہنے کو آیا ہوں سراپا درد ہوں ہو عطا کچھ وقت بہر داستاں میرے لیے حسرت سوزاں سے تکتی ہے اسے برق تپاں شاخ گلشن پر بنا جو آشیاں میرے لیے
baad-e-sarsar hai nasim-e-gulsitaan mere liye