Hakeem Syed Mohammad Ghazipuri
bulbul ko phir chaman mein lagaa laai bu-e-gul
بلبل کو پھر چمن میں لگا لائی بوئے گل اے کاش ہوتی گل بدنوں میں بھی خوئے گل دل داغ داغ اس میں خیال خرام ناز جس طرح اڑتی پھرتی ہو گلشن میں بوئے گل عاشق ہی جب نہیں تو خزاں ہے بہار حسن بلبل کے ساتھ ساتھ گئی آبروئے گل راز محبت اور دل غنچہ تا بہ کے نکلے گی بو کے پردے میں ہر آرزوئے گل لو شادؔ سیر گل سے بھی نفرت ہوئی انہیں سمجھے مگر کہ بوئے محبت ہے بوئے گل