SHAWORDS
H

Hakim Khan Hakim

Hakim Khan Hakim

Hakim Khan Hakim

poet
19Ghazal

Ghazalغزل

See all 19
غزل · Ghazal

یہ کون اپنے اندر بیدار ہو گیا ہے میری انا کے آگے دیوار ہو گیا ہے احساس میرے غم کا اظہار ہو گیا ہے ترکش کا تیر پھر سے بے کار ہو گیا ہے دن رات کی کشاکش بیزار کر گئی تو لڑنے کو زندگی سے تیار ہو گیا ہے پتھر کی بے حسی ہے ہر داستان دل کی تہذیب کا انوکھا معیار ہو گیا ہے آنکھیں بتا رہی ہیں اک ایک بات دل کی دنیا کی چاہتوں کا آزار ہو گیا ہے اپنی حقیقتوں سے چہروں کو کیا چھپائیں آئینہ آپ اپنا کردار ہو گیا ہے

ye kaun apne andar bedaar ho gayaa hai

غزل · Ghazal

مثل خوشبو ہر انجمن میں رہے پھول کی طرح ہم چمن میں رہے دن نکلتے ہی روز رن میں رہے اپنے ہی گھر میں ہم کفن میں رہے سازشوں سے وہ باز آئے نہیں ہم اصولوں کی بس گھٹن میں رہے یاد کچھ تو رہے تجھے ہم بھی تیرے ماتھے کی ہر شکن میں رہے رنگ دنیا میں کھو گئے تم تو ہم اسی سادہ پیرہن میں رہے ہو گئے ہم لہولہان مگر حوصلے دل کے ہر تھکن میں رہے اب کی تہذیب ہی نرالی ہے شہد ہونٹوں پہ زہر من میں رہے کتنے چالاک ہیں وہ اور حکیمؔ ہم کہ بے باک بھولے پن میں رہے

misl-e-khushbu har anjuman mein rahe

غزل · Ghazal

صبح سے شام تک رہے سائے پھر اچانک ہی کھو گئے سائے زندگی کا سلوک کیسا ہے اک مہاجر سے پوچھتے سائے زندگی کے حساب میں گم ہیں بار ہستی سے ہانپتے سائے میری تنہائیوں کے شعلوں میں نیند سے خواب تک جلے سائے کیسی چندن کے پاس خوشبو ہے سانپ جیسے ہیں رینگتے سائے جھیل میں دل کی یاد کے پتھر دائرہ بن کے پھیلتے سائے یہ تشدد کی خوفناک ہوا جسم و جاں کیا ہیں کانپتے سائے

subh se shaam tak rahe saae

غزل · Ghazal

دنیا میں جی رہا ہوں مگر جی اچٹ گیا صدیوں کا جو سفر تھا وہ اک پل میں کٹ گیا مدت کے بعد مجھ کو جگایا ضمیر نے پھر یوں ہوا کہ ذہن گناہوں سے ہٹ گیا گھر کی محبتوں کا وہ عالم نہ پوچھئے زنجیر سا یہ کون قدم سے لپٹ گیا دریا ہوں ایک میں مرا اپنا وجود ہے قطرہ مجھے سمجھ کے سمندر پلٹ گیا آخر کو دل کا بوجھ اتر ہی گیا حکیمؔ لفظوں میں میرا درد بخوبی سمٹ گیا

duniyaa mein ji rahaa huun magar ji uchaT gayaa

غزل · Ghazal

آئنہ دل کا جب بھی صاف ہوا اک حقیقت کا انکشاف ہوا دل مرا خون ہو گیا لیکن پتھروں میں کہاں شگاف ہوا دائرہ بڑھتے بڑھتے ٹوٹ گیا ایک نقطے پہ اختلاف ہوا میں تو حق کی تلاش میں نکلا کیوں زمانہ مرے خلاف ہوا گردشوں میں بھنور کے جب اترا پھر سمندر کا اعتراف ہوا

aaina dil kaa jab bhi saaf huaa

غزل · Ghazal

امید کے ساحل پہ ٹھہر کیوں نہیں جاتا دریا مری آنکھوں کا اتر کیوں نہیں جاتا زینت کی کوئی چیز سلامت نہیں مولیٰ نقشہ یہ مرے گھر کا سنور کیوں نہیں جاتا مدت سے کڑی دھوپ میں جو گرم سفر ہے وہ دشت تمنا سے ادھر کیوں نہیں جاتا وہ کب مرے دکھ درد کو محسوس کرے گا کوزے میں سمندر یہ اتر کیوں نہیں جاتا ہاتھوں کی لکیروں نے ستارے سے کہا ہے آنگن میں مرے چاند اتر کیوں نہیں جاتا کب تک میں سنبھالا کروں خاکستر دل کو خوشبو کی طرح میں بھی بکھر کیوں نہیں جاتا کس کس کی عنایات کا احساس سنبھالے یہ بوجھ مرے سر سے اتر کیوں نہیں جاتا تہذیب کے اعمال کے آئینے بہت ہیں چہروں کا مگر رنگ نکھر کیوں نہیں جاتا

ummid ke saahil pe Thahar kyon nahin jaataa

Similar Poets