Hameed Gauhar
Hameed Gauhar
Hameed Gauhar
Ghazalغزل
be-asar be-samar tiraa milnaa
بے اثر بے ثمر ترا ملنا صرف تصویر بھر ترا ملنا آ گئیں درمیان سنگینیں ہو گیا معتبر ترا ملنا مچھلیاں ہاتھ میں نہیں رکتیں مختلف ہے مگر ترا ملنا شہر کی بتیاں نہ گل کر دے رات پچھلے پہر ترا ملنا منزلوں کا سراغ ہو جیسے آج اس موڑ پر ترا ملنا
miri aankhon se haT kar kuchh nahin hai
مری آنکھوں سے ہٹ کر کچھ نہیں ہے تری دنیا کا منظر کچھ نہیں ہے کوئی نیزہ کوئی سجدہ عطا کر ابھی تک تو مرا سر کچھ نہیں ہے ترے جغرافیہ کی دسترس میں مری بستی مرا گھر کچھ نہیں ہے یہی دو چار رستے ہیں یہاں کے یہاں کھو جائیں تو ڈر کچھ نہیں ہے خلائیں ہاتھ آئیں گی تمہارے مری چٹکی سے باہر کچھ نہیں ہے
hamaari hi badaulat aa gai hai
ہماری ہی بدولت آ گئی ہے یہاں تک جو صداقت آ گئی ہے خدا میں ہو گیا پھر اک تصادم عقیدوں میں سیاست آ گئی ہے ابھی کل تک در توبہ کھلا تھا مگر اب تو قیامت آ گئی ہے ہمارے صبر کا سونا پرکھنے یزیدوں کی جماعت آ گئی ہے کوئی تیرا خلا پر کر نہ پایا جہاں تیری ضرورت آ گئی ہے ہمارے منتظر تھے لاکھ مقتل مگر تجھ پر طبیعت آ گئی ہے





