Hameed Yurish
جو دن ڈھلا تو عجب بے بسی کا منظر تھا بہت سے دھڑ تھے دھڑوں پر کہیں کہیں سر تھا عجب مقام پہ سب چھوڑ کر ہوئے رخصت کوئی نہ تھا مری زد پر میں سب کی زد پر تھا میں ریت ریت جو بکھرا تو ہو گیا تحلیل سمٹ کے خود میں جو پھیلا تو اک سمندر تھا ہوئی سبھی سے بغل گیر مصلحت میری کسی کسی سے ملا وہ جو میرے اندر تھا قدم اٹھا کے چلی زندگی وہی تھی مری جو تھک کے بیٹھ گیا وہ مرا مقدر تھا جواب کیوں نہیں دیتے کھنڈر کھنڈر منظر یہ میرا شہر تھا اس میں کہیں مرا گھر تھا
jo din Dhalaa to ajab bebasi kaa manzar thaa