SHAWORDS
Hamid Azimabadi

Hamid Azimabadi

Hamid Azimabadi

Hamid Azimabadi

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

مجاز پر بھی ذرا چشم حق نما کرنا بتوں کی یاد میں اے دل خدا خدا کرنا بتوں کا شیوہ تو ہے ظلم ناروا کرنا مگر خبر نہیں اللہ کو ہے کیا کرنا جو ہو سکے تو پس مرگ یہ کیا کرنا اٹھا کے ہاتھ مری قبر پر دعا کرنا ہیں وہ یہ چاہتے پورا مرا کہا کرنا مجھے بھی چاہئے اب ترک مدعا کرنا خرام ناز سے پس جاؤں میں کہ مٹ جاؤں نیاز مند کو آتا نہیں گلا کرنا نیازنامہ تو پہنچائے گا انہیں لیکن حق پیام بھی اے نامہ بر ادا کرنا جوان ہو کے چھپائیں وہ راز دل کیوں کر کہ شوخیوں نے سکھایا نہیں حیا کرنا جفا و جور پر اے دل نہ شکوہ منہ سے نکال کہیں نہ بیٹھے بٹھائے اسے خفا کرنا حریص لذت آزار کو یہ آتا ہے سزا کے شوق میں ہر فعل ناسزا کرنا تمہارا دھیان تو ہر وقت ہم کو رہتا ہے خیال کچھ تو ہمارا بھی تم کو تھا کرنا کیا ہے عہد محبت تو پھر نباہ بھی ہو بتاؤ صاف نہ کرنا ہے تم کو یا کرنا ریا پسند نہیں کبریا کو اے حامدؔ عبادت اس کی جو کرنا تو بے ریا کرنا

majaaz par bhi zaraa chashm-e-haq-numaa karnaa

2 views

غزل · Ghazal

آج کل کعبہ کلیسا ہو گیا دل پر اک کافر کا قبضہ ہو گیا دفعتاً دل کو مرے کیا ہو گیا کس پہ مائل کس پہ شیدا ہو گیا بے قراری کا سبب کھلتا نہیں بیٹھے بیٹھے یہ مجھے کیا ہو گیا لا دوا کیوں ہو گیا میرا مرض کیا خفا مجھ سے مسیحا ہو گیا وہ یہ فرماتے ہیں ہم سمجھے نہیں مدعا گویا معما ہو گیا بے تعلق ہو گئے دنیا سے ہم جب سے دل کو عشق تیرا ہو گیا اب نہیں پہچانتا کوئی مجھے فرط غم سے اب یہ نقشہ ہو گیا کر دیا محو ان کو ان کے حسن نے دیکھ کر آئینہ سکتا ہو گیا سن کے ساکت سب ہوئے حامدؔ کے شعر دم بخود جلسے کا جلسہ ہو گیا

aaj-kal kaaba kalisaa ho gayaa

1 views

غزل · Ghazal

آپ سے اور کیا نہیں ہوگا صرف وعدہ وفا نہیں ہوگا کس کو خوف خدا نہیں ہوگا بس بتوں کو ذرا نہیں ہوگا آج وعدہ وفا نہیں ہوگا تیرا دیدار کیا نہیں ہوگا جتنی چاہو جفائیں تم کر لو کبھی مجھ سے گلہ نہیں ہوگا لاکھ صورت سے کر جفا مجھ پر ترک صبر و رضا نہیں ہوگا لے لے میری زباں بھی اے قاصد خط سے مطلب ادا نہیں ہوگا تجھ سا ظالم اگر نہیں کوئی مجھ سا بھی با وفا نہیں ہوگا کیوں بگڑتے ہو خط مرا پڑھ کر اب رقم مدعا نہیں ہوگا دل تو کیا میری جان بھی لے لو عذر مجھ کو ذرا نہیں ہوگا تیز ہوگی تو کب چھری تیری جب ہمارا گلا نہیں ہوگا جو سزا چاہتے ہو دو مجھ کو کبھی عذر خطا نہیں ہوگا لاکھ واصل خدا سے ہو جائے پھر بھی بندہ خدا نہیں ہوگا کوئی شاکی جفا کا ہوگا اور حامدؔ با وفا نہیں ہوگا

aap se aur kyaa nahin hogaa

1 views

غزل · Ghazal

کچھ ایسے محو ہوں آنکھیں جو کھول کر دیکھیں اسی کا جلوہ نظر آئے ہم جدھر دیکھیں دم اخیر کوئی آرزو نہیں دل میں یہ آرزو ہے کہ ہم تجھ کو اک نظر دیکھیں انہیں بناؤ سے فرصت کہاں شب وعدہ فضول شام سے کیوں راہ تا سحر دیکھیں ریاض دہر میں پھولے سمائیں ہم کیوں کر جو اپنے نخل تمنا کو بارور دیکھیں ادھر ہے میرا جگر اور ادھر ہے دل میرا وہ کشمکش میں پڑے ہیں کدھر کدھر دیکھیں نثار چشم عنایت پہ ہم ہوں سو دل سے وہ اس نظر سے اگر ہم کو اک نظر دیکھیں خبر ملی ہے مجھے آج ان کے آنے کی جو اہل عشق ہوں وہ آہ کا اثر دیکھیں جو کچھ ہو دل میں ہمارے اٹھا نہ رکھیں ہم جو کچھ ہو آپ کے دل میں وہ آپ کر دیکھیں نہیں پسند مجھے نکتہ چینیاں حامدؔ کسی کے عیب کو کیا دیکھیں ہم ہنر دیکھیں

kuchh aise mahv hon aankhein jo khol kar dekhein

1 views

غزل · Ghazal

وفا کرنے آئے جفا کر چلے ہمیں خاک میں وہ ملا کر چلے یہ کیا تم کو سوجھی یہ کیا کر چلے کہ چتون سے بسمل بنا کر چلے مجھے قتل تیغ جفا کر چلے یہ کیا کر چلے تم یہ کیا کر چلے ملائی کبھی تم نے جس سے نگاہ اسے اپنا شیدا بنا کر چلے تری راہ میں مثل نقش قدم ہم اپنے کو کیا کیا مٹا کر چلے ادھر آؤ بیٹھو بھی آغوش میں کہاں مجھ سے آنکھیں چرا کر چلے تمہیں پاس اگر بیٹھنا ہی نہ تھا تو کیوں ہم سے تم دل لگا کر چلے زباں پر نہ لانا تھا حرف گلہ تری بزم سے منہ کی کھا کر چلے ازل کا تمہیں قول ہے یاد بھی کہ آئے تھے کیا کہہ کے کیا کر چلے اٹھا کر ہمیں تو نے رسوا کیا سزا دل لگانے کی پا کر چلے مٹے سیکڑوں کوچۂ عشق میں نہ کمبخت دل سر اٹھا کر چلے وہ بیٹھے تو بیٹھے مرے دل پہ تیر چلے تو قیامت بپا کر چلے مجھے روتے میں آ کے بعد فنا وہ میت پر آنسو بہا کر چلے وہ ٹھکرا گئے میری تربت کو کیا کہ فتنے ہزاروں جگا کر چلے ہوا ان کے آگے جو حامدؔ کا ذکر تو کس ناز سے مسکرا کر چلے

vafaa karne aae jafaa kar chale

1 views

غزل · Ghazal

ہوئے رسوائے الفت عمر بھر کو جگر روتا ہے دل کو دل جگر کو مرے دل کو وہ تکتا ہے جگر کو خبر اپنی نہیں اس بے خبر کو کبھی ہوگا نہ کم سودائے الفت لئے پھرتا ہوں ساتھ اس درد سر کو کسی سے بھی نہیں ملتی کسی دن نظر شاید لگی تیری نظر کو ملا دے یا الٰہی تو ملا دے اثر سے نالہ ہائے بے اثر کو جو میں گزرا ادھر تو داغ دل نے کیا روشن چراغ رہ گزر کو پسند آتا ہے ہنسنا اے ستم گر لب سوفار کا زخم جگر کو بتوں کی دوستی سے کیا نتیجہ خدا سے چاہئے الفت بشر کو جوانی میں عبث ہے فکر پیری ابھی ہے رات مدت ہے سحر کو مئے الفت کی ایسی بے خودی ہے خبر دل کی نہیں حامدؔ جگر کو

hue rusvaa-e-ulfat umr bhar ko

1 views

Similar Poets