
Hamid Hasan Qadri
Hamid Hasan Qadri
Hamid Hasan Qadri
Ghazalغزل
تجھے حسن نے کیا سے کیا کر دیا ادھر دیکھ او بت خدا کر دیا طبیعت میں پیدا مزہ کر دیا محبت نے درد آشنا کر دیا بہت دوستی جن سے گاڑھی چھنی انہیں نے مزہ کرکرا کر دیا میں قربان اے ناامیدی ترے مرے دل کو بے مدعا کر دیا دم نزع آئے یہ کہہ کر چلے جو وعدہ کیا تھا وفا کر دیا ادھر آ گلے سے لگا لوں تجھے مری جان کس نے خفا کر دیا صبا لا کے تو نے در یار پر مری خاک کو کیمیا کر دیا الٰہی سزا ہے یہ کس جرم کی کہ اس پر مجھے مبتلا کر دیا بہت مرنے جینے کے جھگڑے رہے ترے تیر نے فیصلہ کر دیا ملا آج حامدؔ عجب حال تھا اسے عشق نے کیا سے کیا کر دیا
tujhe husn ne kyaa se kyaa kar diyaa
ساقی وہ اور بات ہے مرضی تری نہ ہو ممکن نہیں کہ شیشے میں کچھ بھی بچی نہ ہو حالت خراب ایسی کسی کی ہوئی نہ ہو عیسیٰ بھی آئیں تو بھی مری جاں بری نہ ہو سینے میں شور آج ہے کیسا مچا ہوا دیکھو تو آرزو کوئی سر پیٹتی نہ ہو فرقت میں جان بچنے کی امید تو نہیں ہاں اور چار دن مری حالت بری نہ ہو کیونکر اٹھائیں صدمۂ رشک رقیب کو یہ بات ہم سے تو نہ ہوئی ہے کبھی نہ ہو تم ہاتھ میرے سینے پہ رکھو تو ناز سے ممکن نہیں کہ درد جگر میں کمی نہ ہو کیونکر بنے گا آپ کے آنے سے اس کا کام بچنے کی جس غریب کے امید ہی نہ ہو کیا کیا بہک رہا ہے یہ باتوں میں دیکھنا مجھ کو گمان ہے کہیں واعظ نے پی نہ ہو گرتا نہ ایک دن بھی کہ جس میں بجائے اشک آنکھوں سے میری خون کی ندی بہی نہ ہو وہ شوخ مہرباں ہو تو دنیا ہو مہرباں وے مدعی نہ ہو تو کوئی مدعی نہ ہو دل پھیرنے کا اس سے نہ ہرگز کروں سوال ظالم نے چشم مہر اگر پھیر لی نہ ہو کھانے کے واسطے غم الفت نہ ہو اگر اس لطف اس مزے سے بسر زندگی نہ ہو پہلو میں تم رقیب کے بیٹھو خدا کی شان دیکھو قیامت آج کہیں اٹھ کھڑی نہ ہو دل تھام کر اٹھا جو ابھی ان کی بزم سے مجھ کو گمان ہے کہیں حامدؔ یہی نہ ہو
saaqi vo aur baat hai marzi tiri na ho
ساقی وہ بات اور ہے مرضی تری نہ ہو ممکن نہیں کہ شیشے میں کچھ بھی بچی نہ ہو حالت خراب ایسی کسی کی ہوئی نہ ہو عیسیٰ بھی آئیں تو بھی مری جاں بری نہ ہو سینے میں شور آج ہے کیسا مچا ہوا دیکھو تو آرزو کوئی سر پیٹتی نہ ہو فرقت میں جان بچنے کی امید تو نہیں ہاں اور چار دن مری حالت بری نہ ہو تم ہاتھ میرے سینے پہ رکھو تو ناز سے ممکن نہیں کہ درد جگر میں کمی نہ ہو کیونکر بنے گا آپ کے آنے سے اس کا کام بچنے کی جس غریب کے امید ہی نہ ہو کیا کیا بہک رہا ہے یہ باتوں میں دیکھنا مجھ کو گمان ہے کہیں واعظ نے پی نہ ہو گرتا نہ ایک دن بھی کہ جس میں بجائے اشک آنکھوں سے میری خون کی ندی بہی نہ ہو وہ شوخ مہرباں ہو تو دنیا ہو مہرباں وہ مدعا نہ ہو تو کوئی مدعی نہ ہو دل پھیرنے کا اس سے نہ ہرگز کروں سوال ظالم نے چشم مہر اگر پھیر لی نہ ہو کھانے کے واسطے غم الفت نہ ہو اگر اس لطف اس مزے سے بسر زندگی نہ ہو پہلو میں تم رقیب کے بیٹھو خدا کی شان دیکھو قیامت آج کہیں اٹھ کھڑی نہ ہو دل تھام کر اٹھا جو ابھی ان کی بزم سے مجھ کو گمان ہے کہیں حامدؔ یہی نہ ہو
saaqi vo baat aur hai marzi tiri na ho
ہوتی رہتی ہے خلش درد کی اکثر دل میں رہ گیا ہو نہ کہیں ٹوٹ کے نشتر دل میں آتا رہتا ہے تصور تری مست آنکھوں کا چلتے رہتے ہیں مئے ناب کے ساغر دل میں خواب میں خوب لیے ہم نے تصور کے مزے آج مہمان رہا ہے کوئی شب بھر دل میں جو مزا تیری جفا میں ہے کسی شے میں نہیں گھر بنا لیتے ہیں یہ خنجر و نشتر دل میں کبھی ہنستا ہوں تری دھن میں کبھی روتا ہوں یاس رہتی ہے تمنا کے برابر دل میں غم نہیں شوق نہیں درد نہیں کچھ بھی نہیں جھوٹ گر جانتے ہو دیکھ لو آ کر دل میں تو سہی آگ لگا دوں میں قیامت کر دوں دل جلے رکھتے ہیں سرمایۂ محشر دل میں اب کھلا راز قریب رگ جاں کا عقدہ جس کو ہم ڈھونڈتے پھرتے ہیں وہ ہے ہر دل میں یہ بڑا حسن ہے تصویر میں اس کی حامدؔ گھر بنا لیتی ہے آنکھوں سے اتر کر دل میں
hoti rahti hai khalish dard ki aksar dil mein





