
Hamid Husain Hamid
Hamid Husain Hamid
Hamid Husain Hamid
Ghazalغزل
بلا کی بیڑیاں الفت میں پہنیں جان من دو دو دل بے تاب اپنا ایک زلف پر شکن دو دو کبھی اس سے تمہیں دیکھوں کبھی اس سے تمہیں دیکھوں ملی ہیں اس لئے آنکھیں مجھے اے جان من دو دو دیے ہیں ایک توبہ کی صدا میخانے کے در پر کہیں گردش میں ہیں پیمانۂ توبہ شکن دو دو نہ گھر روشن کبھی ہوگا نہ اک پروانہ آئے گا جلاؤں بدلے اک کے دن کو شمع انجمن دو دو ادھر فریاد بے تاثیر ادھر سیدھی نظر ان کی ہماری جان کے خواہاں ہوئے ناوک فگن دو دو کہوں میں کیا فسانہ آپ سے فرہاد و مجنوں کا بھٹکتے پھرتے ہیں دشت جنوں میں بے وطن دو دو تمہاری شوخ آنکھوں سے بچانا اس کو مشکل ہے ہمارا طائر دل ایک ہے ناوک فگن دو دو مرے قلب و جگر کو دیکھ کر بسمل کوئی بولا تڑپتے ہیں پڑے مقتل میں بے گور و کفن دو دو کھلائے حسن نے کیا گل کہ حامدؔ ایک مدت پر پئے شکوہ کھلے ہیں اب لب غنچہ دہن دو دو
balaa ki beDiyaan ulfat mein pahnin jaan-e-man do do
حقیقت میں مجازی عشق کا یوں رنگ بھرتا ہوں خدا کا نام لے لے کر بتوں کی چاہ کرتا ہوں حسیں ملتے نہیں پھر بھی ہوس ملنے کی کرتا ہوں یہ قدر زندگی کرتا ہوں نا قدروں پہ مرتا ہوں وفور ضعف میں کیا خاک آہ سرد بھرتا ہوں کلیجا تھام لیتا ہوں تو کوئی بات کرتا ہوں تلاش دل میں جب میں کوئے جاناں سے گزرتا ہوں تو اک اک ذرے کو جھک جھک کے لاکھوں سجدے کرتا توں کرو بھی امتحاں میرا ابھی سر نذر کرتا ہوں ڈراؤ اور کو تم میں کہاں مرنے سے ڈرتا ہوں بلاتا ہوں کبھی ان کو طلب ان کو جو کرتا ہوں تو کہتے ہیں ابھی آتا ہوں بنتا ہوں سنورتا ہوں تمہیں جانچو تمہیں دیکھو تمہیں سوچو تمہیں سمجھو مکرتے ہو قسم کھا کھا کے تم یا میں مکرتا ہوں بھروسا کیا ثبات زندگی کا بحر ہستی میں حبابوں کی طرح میں ٹوٹتا ہوں جب ابھرتا ہوں اثر لطف و غضب میں تیرے ایسا ہے کہ ہر عاشق کبھی کہتا ہے جیتا ہوں کبھی کہتا ہے مرتا ہوں نظر آتا ہے اک پردے میں جلوہ دونوں عالم کا مئے وحدت سے جام معرفت کو اپنے بھرتا ہوں تجھے پاؤں تو سر پر رکھوں آنکھوں پر بٹھاؤں میں تصور میں یہی بیٹھا خیالی نقش بھرتا ہوں نہ میں نے کچھ کہا تم سے نہ تم نے کچھ کہا ہم سے یہی حسرت لئے میں آج دنیا سے گزرتا ہوں اگر باعث کوئی مرنے کا ہوتا تو نہ غم ہوتا مگر افسوس اس کا ہے کہ میں بے موت مرتا ہوں نہیں کچھ پرسش محشر کا غم ہاں ان سے کھٹکا ہے قیامت سے نہیں ڈرتا تری چالوں سے ڈرتا ہوں مآل کار پر عشق و محبت میں نظر کیسی جو کچھ کرنا مجھے ہوتا ہے اس کو کر گزرتا ہوں سمجھتا ہوں کہ جیتے جی ہوا فردوس میں داخل ترے کوچے میں چلتے پھرتے جب آ کر ٹھہرتا ہوں لیا صیاد سے ڈر کر جو قصد اڑنے کا بلبل نے کہا دست مقدر نے ٹھہر میں پر کترتا ہوں مآل عشق اے حامدؔ جو کچھ ہونا تھا ہوتا ہے بتوں کے جبر سہتا ہوں خدا کا شکر کرتا ہوں
haqiqat mein majaazi ishq kaa yuun rang bhartaa huun
ہمیں ہیں در حقیقت اپنے قاری ہمیں تک بات پہنچے گی ہماری کہیں پر سر چھپانا ہی پڑے گا اگر ہوتی رہے گی سنگ باری کبھی فرصت ملے ہم کو تو سوچیں کوئی منظر ہے کتنا اعتباری سبھی کو دھوپ میں تپنا پڑے گا جہاں سورج کی پہنچی ہے سواری مقدر ہو چکی خردہ فروشی یوں ہی گنتے رہو بس ریز گاری مجھے ہر آن کھائے جا رہا ہے مرے احساس کا کتا شکاری ہر اک دیوار گرتی دیکھتا ہوں بہت مہنگی پڑی ہے ہوشیاری
hamin hain dar-haqiqat apne qaari
ہزاروں لفظ ہیں لیکن ہر اک کی جیب خالی ہے یہ افلاس لباس شاعری یارو مثالی ہے لگے ہیں کان آوازوں پہ لیکن لفظ گونگے ہیں گزرتے موسموں کی داستاں سب سے نرالی ہے کسی تعریف ہی کی روشنی میں آنکھ کھلتی ہے بتانے کی ضرورت ہے یہ کالی رات کالی ہے ہمیں تنہا نہیں ہیں جستجو کی دوڑ میں لیکن ہمیں سے کس لئے پھر آج ہر ذرہ سوالی ہے یہ یکتائی ہماری ہم سے ہی منسوب ہے حامدؔ یہ اپنی وضع اپنی طرز خود ہم نے نکالی ہے
hazaaron lafz hain lekin har ik ki jeb khaali hai
جبر بے چارگی کے ماروں میں ہم ہیں خود اپنے سوگواروں میں آئنہ عکس کو ترستے ہیں صورتوں کے طلسم زاروں میں لغزش پائے بے زبانی تک روشنی کم ہے رہ گزاروں میں لوگ اپنی تلاش کی خاطر چھپ گئے جستجو کے غاروں میں کس کو طول کلام کی فرصت بات کرتے ہیں استعاروں میں موت کا انتظار کرتے ہیں مجرموں کی طرح قطاروں میں
jabr be-chaargi ke maaron mein
ظلمت شب نے کیا چاک گریباں اپنا وہ ہوئی صبح وہ رخصت ہوا مہماں اپنا بڑھ گئی اور بھی پہلے سے سوا وحشت دل کوچۂ زلف ہوا جب سے بیاباں اپنا وقعت عشق بتاں ہم سے تو پوچھے کوئی دین اپنا ہے یہی اور ہے ایماں اپنا لاکھ سمجھاتے ہیں بہلاتے ہیں پھسلاتے ہیں کبھی سنتا نہیں ان کی دل ناداں اپنا سیکڑوں غم ہیں ہمیں سیکڑوں آزار ہمیں اب خدا ہی ہے محبت میں نگہباں اپنا سن کے تمہید محبت ہی وہ ناراض ہوئے کہنے پائے تھے نہ ہم حال پریشاں اپنا پھول مرجھا گئے باقی نہ رہا رنگ بہار باغباں دیکھ کے روتا ہے گلستاں اپنا اپنی صورت کا نظارا ہمیں کر لینے دو دل کئے دیتے ہیں سو جان سے قرباں اپنا دیکھ کر ہم کو سر بزم وہ ہیں تیغ بکف اب کچھ اچھا نظر آتا نہیں ساماں اپنا گریۂ دیدۂ عشاق کو جب دیکھیں گے حضرت نوح کو یاد آئے گا طوفاں اپنا کیا دکھائیں گے وہ منہ جا کے خدا کو حامدؔ دل بتوں سے جو لگاتے ہیں مسلماں اپنا
zulmat-e-shab ne kiyaa chaak garebaan apnaa





