Hamiid Khan Asar
Hamiid Khan Asar
Hamiid Khan Asar
Ghazalغزل
jafaaein hain un ki miraa zabt-e-gham hai
جفائیں ہیں ان کی مرا ضبط غم ہے محبت کا ان کی بھی کیسا کرم ہے سر بزم ان کی ہیں آنکھوں میں آنسو لبوں پر مرے میری روداد غم ہے انہیں حسن کا اپنے احساس ہے جو مری ہی نگاہوں کا سمجھو کرم ہے تری بے رخی بھی ہے گویا قیامت ترا روٹھ جانا بھی گویا ستم ہے نگاہیں ملا کر عطا مجھ کو کرنا ترا جام میرے لئے جام جم ہے اثرؔ دل کی دنیا ہے سرشار اس دم نگاہوں کے آگے دیار صنم ہے
har nafas vajh-e-khushi hai aaj-kal
ہر نفس وجہ خوشی ہے آج کل کیا سہانی زندگی ہے آج کل لمحہ لمحہ کیف میں ڈوبا ہوا میں ہوں میری مے کشی ہے آج کل بجھ گئے کب سے امیدوں کے چراغ داغ دل کی روشنی ہے آج کل جس جگہ رہتی تھی بوئے گل وہیں خاک سی کچھ اڑ رہی ہے آج کل کم نہیں غم سے ترے دنیا کا غم اک مصیبت جیتے جی ہے آج کل لوٹ لو مل کر بہار گلستاں لو شگفتہ ہر کلی ہے آج کل
jis ko ehsaas-e-gham nahin hotaa
جس کو احساس غم نہیں ہوتا وہ کبھی چشم نم نہیں ہوتا یوں تو عظمت میں اک فرشتے سے کوئی انساں بھی کم نہیں ہوتا عشق میں داغ دل خدا رکھے چاند سورج سے کم نہیں ہوتا اشک مژگاں پہ ہی لرزتے ہیں قطرہ دریا میں ضم نہیں ہوتا مرگ بلبل پہ آج گلشن میں دیدۂ گل بھی نم نہیں ہوتا چارہ سازوں کی اب تسلی سے صدمۂ ہجر کم نہیں ہوتا بے وفا تو زمانہ رہتا ہے با وفا بھی صنم نہیں ہوتا عشق آساں نہیں کسی کا اثرؔ کس کی زلفوں میں خم نہیں ہوتا
teri mahfil se uTh ke divaane
تیری محفل سے اٹھ کے دیوانے چل دئے پھر کہاں خدا جانے کس کو معلوم تھا خوشی کے لئے درد و غم بھی پڑیں گے اپنانے جن سے مدت کی تھی شناسائی آج وہ بھی بنے ہیں بیگانے یہ فسانے کبھی کے مٹ جاتے بات رکھ لی مرے مسیحا نے جن کا غم کے سوا کوئی نہ ہوا وہ خوشی کو چلے ہیں اپنانے پھر ہوا آج مہرباں ساقی پھر چھلکنے لگے ہیں پیمانے کتنی محتاط تھیں مری نظریں بن گئے پھر بھی کتنے افسانے نہ ملا اے اثرؔ وہ بت اب تک گو ہزاروں ملے صنم خانے





