SHAWORDS
Hamza Hashmi Soz

Hamza Hashmi Soz

Hamza Hashmi Soz

Hamza Hashmi Soz

poet
8Ghazal

Ghazalغزل

See all 8
غزل · Ghazal

kis tarah yaaron ne poshida khazaane DhunDe

کس طرح یاروں نے پوشیدہ خزانے ڈھونڈے پھر یہی زخم دروں کون نہ جانے ڈھونڈے ہم جو گزرے ہیں خرابے سے تو حیرت یہ ہے جتنے ڈھونڈے ہیں محبت کے فسانے ڈھونڈے خیر یہ جان امانت تھی سو جانی تھی کبھی کیا سے کیا اس نے بھی کھونے کے بہانے ڈھونڈے اس کے پہلو میں ہیں تو رین بسیرا کر لیں نت نئے کون کہاں روز ٹھکانے ڈھونڈے آج پھر میں نے کتابوں سے مہک پائی ہے آج پھر میں نے کہیں پھول پرانے ڈھونڈے آئے زانو میں تو سر دھر دیا اس کے آگے سوئی پہلو میں تو بازو کے سرہانے ڈھونڈے

غزل · Ghazal

puraani yaad ki taamir Dhaanaa bhuul jaataa huun

پرانی یاد کی تعمیر ڈھانا بھول جاتا ہوں میں اک گھر سے نئے گھر کو بسانا بھول جاتا ہوں نکل جاتا ہوں دریا پار پانی پاٹ کے لیکن کنارے سے کنارے کو ملانا بھول جاتا ہوں میں یاروں کی جفاؤں کو بیاں کرتے ہوئے اکثر میں دشمن کی صداقت کو بتانا بھول جاتا ہے مرے تن پر قبا زخموں کی ہر موسم بدلتی ہے لبادہ اوڑھتا ہوں اور پرانا بھول جاتا ہوں

غزل · Ghazal

vaqt aayaa hai ghazab tundi-e-raftaar ke saath

وقت آیا ہے غضب تندیٔ رفتار کے ساتھ کہ سنبھل پائی نہ پوشاک بھی دستار کے ساتھ آنے دیتے نہیں رنجش میں بھی دیواروں کو دیکھ ہم نفرتیں بھی کرتے ہیں کچھ پیار کے ساتھ اک تبسم سے چمن کھلتا گیا پھول سمیت پھول کیا غنچے چٹختے گئے گلزار کے ساتھ ہاتھ جس پر وہ رکھے گا وہی یوسف اس کا جنس وافر ہے بہت گرمئ بازار کے ساتھ سوزؔ موقوف نہیں شاعری تک نام مرا میں سراپا ہی غضب سوز ہوں کردار کے ساتھ

غزل · Ghazal

shahr-e-aafaat mein hangaama-e-zindaan hai bahut

شہر آفات میں ہنگامہ زنداں ہے بہت عشق پر اب بھی مسلط غم دوراں ہے بہت اب کسی طور مجھے چھو نہ سکے گا ترا غم اب مرے چاروں طرف حلقۂ یاراں ہے بہت لوگ ہوتے چلے جاتے ہیں نگاہوں سے پرے لیکن اک ذہن میں واضح رخ تاباں ہے بہت مستند کون سے پیرائے ہیں شعروں کے لیے یہ پرکھنے کے لیے میر کا دیواں ہے بہت پیار تو پیار کدورت بھی کہاں رکھتا ہے مجھے بھی اس کی طرح شکوہ انساں ہے بہت جز مرے چھین گیا ہے در و دیوار و فصیل سوزؔ اس بار تو کم ظرفیٔ طوفاں ہے بہت

غزل · Ghazal

zard mausam mein nae phuul khilaane vaale

زرد موسم میں نئے پھول کھلانے والے مندمل کر نہ سکے زخم پرانے والے کون سوداے دعا کرتا ہے زخموں کے عوض ہم کہاں اور کہاں لوگ زمانے والے فرصت خواب کہاں ایسے ہوئے ہیں بیدار تیرے جھونکے بھی نہیں نیند میں لانے والے چاشنی جا نہیں سکتی کبھی لفظوں سے تری چاہے مضمون در آئیں کئی آنے والے دیکھنا طرۂ شہہ سا وہ مآل و ہنگام سر بھی دھر جائیں گے دستار بچانے والے فکر داماں کی نہیں کرتے نکل آتے ہیں اک ہی سلوٹ پہ کئی حرف اٹھانے والے آج گرچہ نہیں اک روز کریں گے چرچا میرے احباب نہیں مجھ کو بھلانے والے

غزل · Ghazal

kitni mushkil se taqaazaa pas-e-guftaar khulaa

کتنی مشکل سے تقاضا پس گفتار کھلا تو کہیں جا کے یہ پیرایۂ اظہار کھلا کون وارد ہوا بستی میں کہ سب سوداگر چھوڑ کے آئے ہیں بازار کا بازار کھلا سر کہیں خم ہے کہیں پیچ الجھتے جائیں طبع مدہوش سنبھل حلقۂ دستار کھلا خیر ہنسنے سے تمہارے تو ہے دنیا واقف میرا گریہ بھی کھلا تو پس دیوار کھلا کیسے چڑھتے ہوئے سورج کی پرستش ہوگی راز اس وقت کھلا ہم پہ کہ جب دار کھلا ہدف چشم سیہ سوزؔ میں بننا چاہوں جائے خالی نہ کسی طور کوئی وار کھلا

Similar Poets