Hari Mehta
Hari Mehta
Hari Mehta
Ghazalغزل
زندگی کیا ہے وفا کیا ہے عقیدت کیا ہے ہم بتاتے ہیں خداؤں کی حقیقت کیا ہے میں نے پوچھا ہے ستاروں سے سیہ راتوں میں کون ہے کوئے گنہ راہ طریقت کیا ہے میں نے حالات کی ہر آگ میں جل کر جانا راحت قلب ہے کیا اور مصیبت کیا ہے ٹوک دیتا ہے بھلے کوئی غلط ہو کہ سہی ناصحا یہ تو بتا فرض نصیحت کیا ہے چاند سورج کو ستاروں کو پرکھنے والو تم کو معلوم بھی ہے چشم بصیرت کیا ہے کتنے انجان ہیں انسان سمجھ بیٹھے ہیں خوب صورت ہو بشر پھر تو یہ سیرت کیا ہے کس قدر دور ہریؔ کیش چلے آئے ہو قدر تھی دیس میں پردیس میں قیمت کیا ہے
zindagi kyaa hai vafaa kyaa hai aqidat kyaa hai
زندگی اب رہے خطا کب تک جرم کی بارہا سزا کب تک ناخدا ہوں میں اپنی کشتی کا یہ خداؤں کا سلسلہ کب تک اپنی پتھرا گئی ہیں آنکھیں بھی حسن پردہ اٹھائے گا کب تک کون پکڑے گا بھاگتے سائے کون دیکھے گا راستہ کب تک غالباً اور شاہراہیں ہیں ایک ہی بند راستہ کب تک آدمی آدمی کا دشمن ہے جانے ہو مہرباں خدا کب تک بے سبب پھر رہے ہیں مدت سے کیجیے وقت کا گلا کب تک کام اپنا ہریؔ پرستش ہے بے اثر پھر رہے دعا کب تک
zindagi ab rahe khataa kab tak
غم زدہ زندگی رہی نہ رہی خوش رہے ہم خوشی رہی نہ رہی زندگی کی حسین راہوں میں چھاؤں ٹھنڈی کبھی رہی نہ رہی چاند تاروں میں زندگی کاٹی آپ کو یاد بھی رہی نہ رہی راہ مستی میں وہ چراغ ملے جل گئے روشنی رہی نہ رہی جب کوئی راہ پر لگا ہی نہیں رہبری رہبری رہی نہ رہی رہ گئی بات آپ کی چلئے میری وقعت رہی رہی نہ رہی دے کے امید پوچھتے ہیں مجھے دل میں حسرت کوئی رہی نہ رہی عمر گزری گناہ گاری میں فکر انجام کی رہی نہ رہی اپنے مرکز پہ آ گیا ہوں ہریؔ غم نہیں زندگی رہی نہ رہی
gham-zada zindagi rahi na rahi





