Harris Raja
Harris Raja
Harris Raja
Ghazalغزل
تصویر اپنے اصل سے بالکل جدا بنے پہلے کو اس طریقے بنا دوسرا بنے میں اپنے خواب نیند کی مٹی میں گھول دوں وہ کیمیائی جسم اگر جا بجا بنے اک آنکھ ہو جو میرے خد و خال بھانپ لے جذبوں کی ترجمان کوئی تو دعا بنے ڈلفی کی دیوی گایا سے سرسبزگی ملے زینو کی یاترا سے محبت سزا بنے حلیے پہ ورد صبر پڑھے کوئی فلسفی تب وسعت نقوش سے کچھ ماورا بنے
tasvir apne asl se bilkul judaa bane
خواب کو نیند کی سرحد پہ رکھا جاتا ہے تب کہیں جا کے ترا وصل بنا جاتا ہے دل اتر جاتا ہے نظروں سے سر شام کہیں پھر اداسی کو خیالوں میں بھرا جاتا ہے کینوس درد سے ہو جاتا ہے چھلنی چھلنی جب ترے ہجر کو تصویر کیا جاتا ہے ایک ویرانی سی اگ پڑتی ہے میرے اندر ایک لا شکل کو امکان دیا جاتا ہے متصل ہوگا بھلا کیسے ترے دکھ سے خلا کب کسی کرب کو وحشت سے سیا جاتا ہے لوگ آئیں گے دعا لینے لحد پر حارثؔ میں بتا جاؤں گا یوں عشق کیا جاتا ہے
khvaab ko niind ki sarhad pe rakhaa jaataa hai
خلا سے انخلا تک چل کے آئے ہم اپنے ناخدا تک چل کے آئے گھٹن دل میں بسیرا چاہتی تھی قدم دشت بلا تک چل کے آئے حسینی پیاس کو سوچا تھا میں نے سمندر نینوا تک چل کے آئے اسے کہنا محبت مضطرب ہے اسے کہنا خدا تک چل کے آئے ہم اپنی ذات میں بہلول حارثؔ سخا کی انتہا تک چل کے آئے
khalaa se inkhilaa tak chal ke aae
خزاں رسیدہ نے الٹی طرف رجوع کیا تمام رنگوں نے تیری طرف رجوع کیا یہ شاخ تازہ اسی سوچ میں کٹی ہوگی مرے گلاب نے کس کی طرف رجوع کیا زمین پھیل گئی ساتوں آسمانوں پر خلا نوردوں نے کیسی طرف رجوع کیا فضائے حبس میں سب لوگ بوکھلا گئے تھے اکیلے ہم نے ہی کھڑکی طرف رجوع کیا میں اس کو چھوڑ کے آگے چلا گیا حارثؔ تو کائنات نے میری طرف رجوع کیا
khizaan-rasida ne ulTi taraf rujua kiyaa
آنکھوں میں انسان بسائے جا سکتے ہیں دل پر یوں احسان جتائے جا سکتے ہیں عشق نگر میں بس نیت دیکھی جاتی ہے کاغذ کے گلدان بنائے جا سکتے ہیں چاندنی رات میں مدھم سورج اگ سکتا ہے سوچوں پر بہتان لگائے جا سکتے ہیں جنموں کی خاموشی جب جب بولنا چاہے دیواروں کے کان بنائے جا سکتے ہیں سنا ہے حارثؔ ہونٹوں کے امرت رس میں بھی زہر بھرے پیکان ملائے جا سکتے ہیں
aankhon mein insaan basaae jaa sakte hain
تمہارا ہجر اگر زائچے میں ڈھل جائے یہ کائنات کسی حادثے میں ڈھل جائے ہماری آنکھ میں گر نیند خودکشی کر لے تمہارا خواب ابھی رت جگے میں ڈھل جائے میں ایک لمس کی ندرت پہ کام کر پاؤں اگر وہ حسن کسی زاویے میں ڈھل جائے مری غزل میں محبت کا رنگ شامل ہو تمہارا جسم اگر قافیے میں ڈھل جائے ہے یاد داشت میں باقی تو حفظ کر حارثؔ نہیں بعید وہ کب مخمصے میں ڈھل جائے
tumhaaraa hijr agar zaaiche mein Dhal jaae





