SHAWORDS
Harsh Brahmbhatt

Harsh Brahmbhatt

Harsh Brahmbhatt

Harsh Brahmbhatt

poet
10Ghazal

Ghazalغزل

See all 10
غزل · Ghazal

روز اپنا بیاں بدلتا ہے آدمی ہے نشاں بدلتا ہے لاکھ انسان زور کرتا ہے وقت پھر بھی کہاں بدلتا ہے آدمی کچھ بھی کر نہیں پاتا وقت جب آسماں بدلتا ہے جانے کس کے اشارے چلتے ہیں یہ سماں یہ جہاں بدلتا ہے آگ سے رشتہ اس کا ہے قائم کب یہ رشتہ دھواں بدلتا ہے آئنہ جو دکھا وہ کہتا ہے یہ بھلا کب زباں بدلتا ہے

roz apnaa bayaan badaltaa hai

غزل · Ghazal

پھول سمجھے تھے خار نکلا ہے جان لیوا یہ پیار نکلا ہے تیر چھوڑا نہیں ابھی ہم نے تو یہ کیا آر پار نکلا ہے میری حالت پہ آئنہ رویا کوئی تو غم گسار نکلا ہے دام دو دل کے دل کو لے جاؤ ایسا بھی اشتہار نکلا ہے جذبہ وحشت کا تھام کر مجھ کو آج پھر سوئے دار نکلا ہے راہ میں بیٹھا ہوں مگر اس کو ڈھونڈنے انتظار نکلا ہے حسرتیں مر چکیں مگر ان کے دل کے اندر مزار نکلا ہے جو بھی نکلا ہے اس کی محفل سے جانے کیوں اشک بار نکلا ہے

phuul samjhe the khaar niklaa hai

غزل · Ghazal

آسماں سے ہلال نکلا ہے دل سے تیرا خیال نکلا ہے آئنہ توڑ کر نکالو تو اپنا بس وہ ہی حال نکلا ہے مشکلوں میں بتائے سال کئی تب کہیں ایک سال نکلا ہے بند دل کی دوکان کھولی تو گرد میں ڈوبا مال نکلا ہے عام انسان آج کا گھر سے خود کو خود سے سنبھال نکلا ہے آدمی جب کبھی کھلا ہے کہیں کوئی فن یا کمال نکلا ہے اس نے جب جب زبان کھولی ہے کوئی الجھا سوال نکلا ہے

aasmaan se hilaal niklaa hai

غزل · Ghazal

درد سینے میں لے کے چلتا ہوں غم کے سائے میں روز پلتا ہوں میری دنیا بدل سی جاتی ہے آئنے سے میں جب نکلتا ہوں میری سانسوں سے اٹھ رہا ہے دھواں بجھ رہا ہوں مگر میں جلتا ہوں لوگ کہتے ہیں گر رہا ہوں مگر سچ تو یہ ہے کہ میں سنبھلتا ہوں سر اٹھاتی ہے زندگی ہر پل ہر گھڑی سوئے مرگ چلتا ہوں میں اگر سنگ ہوں تو پھر یارو کوئی بتلائے کیوں پگھلتا ہوں

dard siine mein le ke chaltaa huun

غزل · Ghazal

شاعری کی زبان بولیں گے کان دنیا کے آج کھولیں گے ساتھ ملنا کسی کا مشکل ہے اپنے سائے کے ساتھ ہو لیں گے دل میں میلا لگا ہے خلوت کا آج ہم اس میں خود کو کھولیں گے وصل کے پھول ہم کھلائیں گے تیری یادوں کو دل میں بولیں گے بہتے آنسو سے کام لیں گے ہم کم سے کم چہرہ اپنا دھو لیں گے سر پہ احسان رات کا کیوں ہے نیند آئی تو دن میں سو لیں گے

shaa'iri ki zabaan boleinge

غزل · Ghazal

بے خطا کو سزا تو دیتے ہیں جلتے دل کو ہوا تو دیتے ہیں اجنبی لوگ اچھے لگتے ہیں دیکھ کر مسکرا تو دیتے ہیں چاہے جینے کی چاہے مرنے کی چارہ گر کچھ دوا تو دیتے ہیں رشتہ اب جیسے کھوٹا سکہ ہے پھر بھی اس کو چلا تو دیتے ہیں چاہے ملتے نہیں پتے پر وہ پھر بھی اپنا پتہ تو دیتے ہیں آئنہ میرے سامنے رکھ کر مجھ کو مجھ سے ملا تو دیتے ہیں مجھ کو خانہ بدوش کر کے وہ سب کے دل میں بسا تو دیتے ہیں

be-khataa ko sazaa to dete hain

Similar Poets