SHAWORDS
Harsh Kumar Bhatnagar

Harsh Kumar Bhatnagar

Harsh Kumar Bhatnagar

Harsh Kumar Bhatnagar

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

خوشی ہے یہ کہ در و بام بچ گئے گھر کے مرے ہیں لوگ مگر کافی میرے لشکر کے خریدتا ہے وہ غم بھی ادھار لوگوں سے جو کام آتا ہے محفل میں اس سخنور کے سنا تھا یہ کہ محبت میں کوئی مرتا نہیں وہ سب بھی ٹوٹ گئے جو بنے تھے پتھر کے ملے گا کیسے نشاں میرے قتل کا تم کو دبی ہے لاش مری بیچ میں سمندر کے میں روز آتا ہوں گھر خالی ہاتھ لے کر جب میں آئنہ بھی نہیں دیکھ پاتا ہنس کر کے

khushi hai ye ki dar-o-baam bach gae ghar ke

غزل · Ghazal

مصیبتوں سے بھری زندگی ہے مجنوں کی شب فراق میں لیلیٰ دکھی ہے مجنوں کی بخوبی جانتی ہے میرا حال یہ دنیا وہ اس لئے کہ اداسی لکھی ہے مجنوں کی لگے گا وقت تلفظ کو صاف ہونے میں پکڑ غزل پہ ابھی تو بنی ہے مجنوں کی امڑ رہی ہے جوانی بھی سب میں بار دگر وہ جب سے فوٹو پرانی ملی ہے مجنوں کی

musibaton se bhari zindagi hai majnun ki

غزل · Ghazal

تیری نظر کے آگے میں بے اختیار ہوں جو بھی ہوں جیسا بھی ہوں میں ہی تیرا پیار ہوں تو مانگتا ہے جس کو تہجد کے وقت میں میں وہ خدا کا بھیجا ہوا اعتبار ہوں جو گیسوؤں سے چل کے کمر پے کرے ہے رقص تیرے بدن سے گرتا ہوا آبشار ہوں اک نوکری کی آس میں کتنے ہی مر گئے میں بھی تو مرنے کے ہی لیے بے قرار ہوں

teri nazar ke aage main be-ikhtiyaar huun

غزل · Ghazal

بیٹھا ہوں گھر بنانے کو جنگل میں آ کے میں صیاد بن گیا ہوں نشیمن گرا کے میں تصویر کھینچ ایسی مرا درد بھی دکھے عزت بٹور لوں گا یہ آنسو بہا کے میں کردار مسخرے کا بڑے شوق سے کیا سب کو ہنسا رہا ہوں اداسی چھپا کے میں میرے خدا نصیب میں کچھ ایسے زخم دے اوقات بھول بیٹھا ہوں دنیا میں آ کے میں

baiThaa huun ghar banaane ko jangal mein aa ke main

غزل · Ghazal

سفر میں اپنے وہ رخت سفر کو بھول گئے سنہری دھوپ میں سوئے شجر کو بھول گئے جو سیپیوں میں سمندر کا شور سنتے تھے وہ اہل عقل بھی خود اب بھنور کو بھول گئے لگی ہے لت یہ پرندوں کو جب سے پنجروں کی سفر تو کیا ہی کریں گے شجر کو بھول گئے ملا نہیں ہے در و بام جن کو قسمت میں سڑک پہ سوتے ہیں مرنے کے ڈر کو بھول گئے جو انتظار میں دن بھی گزار لیتے تھے وہ مسافروں سے ملے منتظر کو بھول گئے

safar mein apne vo rakht-e-safar ko bhuul gae

غزل · Ghazal

ہے تمنا یہ مری کوئی تمنا نہ رہے سانس تو چلتی رہے آنکھ میں قطرہ نہ رہے میری خواہش ہے کہ امداد ملے سب کو یہاں اک دعا ایسی کروں کوئی بھی اندھا نہ رہے بارہا دیکھ مگر ساتھ میں آنکھیں بھی جھپک بات بھی کر کہ تجھے بعد میں شکوہ نہ رہے دوستی ایسی ہو تا عمر تجھے یاد رکھیں اور گر عشق ہو تو کوئی بھی پردا نہ رہے دل اگر ٹوٹے تو پھر دونوں کا ایسا ٹوٹے میں کسی کا نہ رہوں تو بھی کسی کا نہ رہے

hai tamanna ye miri koi tamanna na rahe

Similar Poets