
Harshad B Tiwari
Harshad B Tiwari
Harshad B Tiwari
Ghazalغزل
in honTon ne puchhaa us peshaani se
ان ہونٹوں نے پوچھا اس پیشانی سے تم تو ہم کو بھول گئے آسانی سے برف کا ٹکڑا دھوپ میں رکھ کر سوچ رہے یعنی پانی نکلے گا اب پانی سے یار اندھیرا کر پہلے اس کمرے میں چڑھ جاتا ہوں ورنہ میں عریانی سے لیجیے اک مصرعے میں سارا افسانہ اک تارے کو ہجر ملا تابانی سے آج کا مجنوں کیا کرتا ہے دیکھو گے مجھ کو باہر آنے دو ویرانی سے اس لڑکے نے کس سے عشق کیا ہوگا لوگوں نے دیکھا ہم کو حیرانی سے
vo jo zakhmon ki numaaish karte hain
وہ جو زخموں کی نمائش کرتے ہیں ان پہ چارہ گر بھی کوشش کرتے ہیں بس تمہیں پانے کی خواہش کرتے ہیں ہم جنوں کی آزمائش کرتے ہیں زندگی میں کل ملا کر دیکھیں تو خواب اور تقدیر گردش کرتے ہے آنکھ دو اک غم میں روتی ہی نہیں ابر یکجا ہو کے بارش کرتے ہیں مولیٰ تیری خلق کے سب لوگ ہی عشق کب کرتے ہیں سازش کرتے ہیں اصل میں اکثر ہی مر جاتے ہیں ہم خواب میں جی بھر کے جنبش کرتے ہیں میں ہنسا دیتا ہوں تم کو آخرش اور تمہارے لوگ کوشش کرتے ہیں
jaan-e-jaan meri ye jaan kaa masala hai
جان جاں میری یہ جاں کا مسئلہ ہے صرف تیری ایک ہاں کا مسئلہ ہے کچھ تو میرا بھی نشانہ ہے نہیں ٹھیک اور کچھ تیر و کماں کا مسئلہ ہے یہ زمین و آسماں پکے عدو ہیں خلق ان کے درمیاں کا مسئلہ ہے جو تری بائیں ہتھیلی پر دکھا تھا یہ لڑائی اس نشاں کا مسئلہ ہے یہ فراق آشفتگی گریہ یہ وحشت ایک قلب ناتواں کا مسئلہ ہے میں بھی لگ بھگ تجھ سے باہر آ چکا ہوں خیر تو بھی اب فلاں کا مسئلہ ہے
main pahle to bahut baadal banaataa
میں پہلے تو بہت بادل بناتا پھر اس کے بعد اک جنگل بناتا اگر ہوتا میں کوزہ گر تمہارا بچی مٹی سے پھر صندل بناتا اسے تم پیر سے لگنے نہ دیتی اگر ہاتھوں سے میں پائل بناتا بنایا تھا تجھے آنکھوں کا آنسو ہمیں بھی یار تو کاجل بناتا تمہیں دلدل بنا رکھا ہے اس نے میں جو ہوتا نہ تو مخمل بناتا نہ کی آئینے سے تعریف میں نے اما پاگل کو کیا پاگل بناتا





