
Harshal Ghafil
Harshal Ghafil
Harshal Ghafil
Ghazalغزل
آسماں پر بٹھا دیا مجھ کو اس سخن نے جھکا دیا مجھ کو داستاں زندگی کی اتنی ہے زندگی نے کھپا دیا مجھ کو چھاؤں میں جب گیا میں سستانے خواہشوں نے اٹھا دیا مجھ کو صبر کی چھت بچاتے ہیں کیسے آندھیوں نے سکھا دیا مجھ کو میں تھا بے فکر بیٹھ کشتی میں کشتی نے ہی ڈبو دیا مجھ کو فون پر تیری اس خموشی نے آج پھر سے رلا دیا مجھ کو کس قدر دوریوں کی چادر ہے کروٹوں نے بتا دیا مجھ کو خواب سی زندگی تھی غافلؔ کی شکریہ جو جگا دیا مجھ کو
aasmaan par biThaa diyaa mujh ko
آج موسم بڑا سہانا ہے یاد آیا کوئی فسانہ ہے اشک ماضی شراب اور غزلیں ربط ان سے مرا پرانا ہے غربتوں کے یہ دور ہیں اچھے چاند تاروں پہ شامیانہ ہے یہ تری یاد ہے ترے جیسی کام ان کا مجھے ستانا ہے کھول دل کی گرہ ذرا تو بھی یہ تغافل تو بس بہانہ ہے دشت کو دشت رہنے دے انساں بے زباں کا یہ آشیانہ ہے کارواں ساتھ تھا کبھی میرے آج غافلؔ ہوا زمانہ ہے
aaj mausam baDaa suhaanaa hai
یہ زمیں ہی مری چٹائی ہے اور یہ آسماں رضائی ہے زندگی مت قریب کر اس کے موڑ پر ہی کھڑی جدائی ہے تم بدلتے بجا مگر کیسے دسترس ہی مری برائی ہے سانس بازاری ہوتی ہے پھر بھی کتنی لمبی دکاں جمائی ہے ظلم پر کیا زبان کھو لیں گے شہر یہ آج بے نوائی ہے مذہبوں کا نقاب اوڑھے پھر آگ تو نے کہاں لگائی ہے باقی سب تو فقیر جیسا ہے چند غزلیں مری کمائی ہے دور تھا خاکسار کہنے کا اب یہاں بزم خود نمائی ہے
ye zamin hi miri chaTaai hai
ایک جھونکا یاد کا مجھ کو اڑا کر لے گیا رنگ چہرے کے سبھی جیسے چرا کر لے گیا یہ تصور ہے ترا جیسے کوئی مانجھی صنم ہاتھ تھاما شہر تیرے یہ بٹھا کر لے گیا میں کسی ٹوٹے ہوئے سے پھول کی خوشبو جسے کوئی عاشق اس کی کاپی میں چھپا کر لے گیا فخر کے آنسو تھے اس دن ماں کی آنکھوں میں مری جب میں اس کے پاس اس دن کچھ کما کر لے گیا لوگ رشتوں کو نبھاتے ہیں کچھ ایسے آج کل ڈال سے پھل جب کبھی چاہا جھکا کر لے گیا
ek jhonkaa yaad kaa mujh ko uDaa kar le gayaa





