Hasan Hameedi
میری پلکوں پہ نہ آئے مرے اندر بولے ایک قطرہ کہ جو ٹپکے تو سمندر بولے زندگی چاہے کہ آواز سفر کرتی رہے میں نہ بولوں تو مری سوچ کا پیکر بولے اپنے زخموں کو دکھاؤں تو دکھا بھی نہ سکوں جو کرم مجھ پہ کئے میرا ستم گر بولے ان کا کیا ہے کہ سماعت بھی ہے جاگیر ان کی ہم جو بولے تو ہر اک دل میں اتر کر بولے بند کمروں میں حسنؔ صرف اشارے کب تک بولنے والا کوئی بات تو کھل کر بولے
meri palkon pe na aae mire andar bole