Hasan Imam Dard
Hasan Imam Dard
Hasan Imam Dard
Ghazalغزل
جان محدود ہوتی جاتی ہے موت مقصود ہوتی جاتی ہے الاماں علم کی فراوانی فکر مفقود ہوتی جاتی ہے کر لی اصلاح اس تمدن کی سعی بے سود ہوتی جاتی ہے ہو سفر عشق کا کہ دانش کا راہ مسدود ہوتی جاتی ہے خود پرستی کا دور دورہ ہے ذات معبود ہوتی جاتی ہے دردؔ اس خلفشار عالم میں زیست نابود ہوتی جاتی ہے
jaan mahdud hoti jaati hai
دنیا سے عقل و فہم کے آثار مر گئے سائے تو جی اٹھے در و دیوار مر گئے کشتیٔ زیست پار نہ لگ پائی لے کے وہ عقل و خرد کا ہاتھ میں پتوار مر گئے جن کو تھا خوف موت کا اپنی حیات میں اک بار کیا مرے وہ کئی بار مر گئے تھا امتحان شوق کیا نقد جاں قبول ہو کر خوشی سے ہم بڑے سرشار مر گئے خوشبو اڑا کے لائے تھے دامان یار سے اس مدعائے شوق کے اظہار مر گئے جنت ملی نہ حور گیا اتقا کہاں ملتے ہیں دردؔ ہاتھ کہ بیکار مر گئے
duniyaa se aql-o-faham ke aasaar mar gae





