SHAWORDS
Hasan Mirzapuri

Hasan Mirzapuri

Hasan Mirzapuri

Hasan Mirzapuri

poet
9Ghazal

Ghazalغزل

See all 9
غزل · Ghazal

phir fazaa khush-gavaar aa jaae

پھر فضا خوش گوار آ جائے حاصل انتظار آ جائے دل کی الجھن کو بخش دے جو سکوں وقت وہ خوش گوار آ جائے گیسوؤں کی جو تیرے چھاؤں ملے میرے دل کو قرار آ جائے وہ اگر میرے پاس سے گزرے زندگی میں بہار آ جائے نام وہ کیوں رہے نہ چرچے میں لب پہ جو بار بار آ جائے جب حسنؔ عشق کا چراغ جلے شاعری کا شعار آ جائے

غزل · Ghazal

asir-e-zulf huun kyunkar mujhe sataate ho

اسیر زلف ہوں کیوں کر مجھے ستاتے ہو نگاہ شوخ سے کیوں کر مجھے لبھاتے ہو ہم اپنی بانہوں کا جھولا تمہیں جھلاتے ہیں یہ راز میرے حریفوں کو کیوں بتاتے ہو ضمیر اپنا تو بیچا نہیں ہے تم نے کبھی تو دوستوں سے بھلا آنکھ کیوں چراتے ہو قصیدہ اپنے رقیبوں کا آپ پڑھ پڑھ کر نہ جانے خون مرا کس لیے جلاتے ہو تمہارے واسطے جس جا گرا ہے خون حسنؔ اسی جگہ پہ پسینہ کو کیوں بہاتے ہو

غزل · Ghazal

bahut hi talkh thiin baatein jo vo sunaa ke gayaa

بہت ہی تلخ تھیں باتیں جو وہ سنا کے گیا مرے ضمیر کو کچھ اس طرح جگا کے گیا وہ میری آنکھ کہ جو بند تھی کھلی تو مگر مری خموش نگاہوں سے تلملا کے گیا جو مہربان بھی لگتا تھا میری ہستی پر وہ اپنے ہاتھوں سے میرا محل جلا کے گیا ترے سفینے کا میں معتبر تھا شخص مگر مجھے تو بیچ بھنور آتے ہی ڈبا کے گیا وہ بانک پن وہ جوانی عجیب شوخ ادا حسنؔ کو آنکھوں ہی آنکھوں میں وہ پلا کے گیا

غزل · Ghazal

dil na jaane kyon lagaayaa kar gayaa ghaayal mujhe

دل نہ جانے کیوں لگایا کر گیا گھائل مجھے ریشمی زلفوں کا سایہ کر گیا گھائل مجھے جانے کتنی بار اس نے اس طرح دیکھا مجھے میں اسے جب تک سمجھتا کر گیا گھائل مجھے خون کے آنسو بہاتے جا رہے ہیں زخم دل اس طرح وہ پاس آیا کر گیا گھائل مجھے لگ رہا ہے اب اندھیروں میں کٹے گی زندگی جو دیا میں نے جلایا کر گیا گھائل مجھے جس کو اپنا جاننے کی بھول مجھ سے ہو گئی اے حسنؔ وہ تھا پرایا کر گیا گھائل مجھے

غزل · Ghazal

kahte hain ki chaltaa hai usulon pe zamaana

کہتے ہیں کہ چلتا ہے اصولوں پہ زمانہ سچائی کا دنیا نے مگر راز نہ جانا کرتے ہیں فراموش جو دشواریٔ منزل ہوتے ہیں حقیقت میں وہی عاقل و دانا تم کون ہو ہو جائے گا ہر شخص کو معلوم چہرے پہ جو ڈالے ہو وہ پردہ نہ اٹھانا یہ کہہ کے حسنؔ دوست مرا ہو گیا رخصت فرصت جو ملے تم کو غزل اپنی سنانا

غزل · Ghazal

na kaarvaan ke liye hai na raahbar ke liye

نہ کارواں کے لیے ہے نہ راہبر کے لیے مجھے حیات ملی ہے فقط سفر کے لیے میں کس سے کس کی شکایت کروں زمانے میں نہیں ہے نیک صفت کوئی درگزر کے لیے یہ کس نے گھول دیا زہر ان فضاؤں میں نہیں ہے جائے اماں اپنے بال و پر کے لیے تمام شے کا فنا ہونا اک حقیقت ہے نہیں کسی کا یہاں ساتھ عمر بھر کے لیے حسنؔ نے عشق سے دامن بچا لیا اپنا بہت سے کام تھے اک عمر مختصر کے لیے

Similar Poets