SHAWORDS
Hasan Nawab Hasan

Hasan Nawab Hasan

Hasan Nawab Hasan

Hasan Nawab Hasan

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

khushaa-qismat tumhein is dil mein mehmaan kar diyaa ham ne

خوشا قسمت تمہیں اس دل میں مہماں کر دیا ہم نے تم آئے تو بیاباں کو گلستاں کر دیا ہم نے مری ویرانئ دل پر یہ اک احساں تمہارا ہے تم اترے دل میں جب دل کو بیاباں کر دیا ہم نے چمن کی تیرگی جب ہو گئی برداشت سے باہر نشیمن پھونک کر اپنا چراغاں کر دیا ہم نے مری دیوانگی پھر بھی نہ راس آئی زمانے کو دکھانے زخم دل چاک گریباں کر دیا ہم نے تغافل میں ضرور اس کے رہیں مجبوریاں شامل اسی خوش فہمی سے جینے کا ساماں کر دیا ہم نے محبت کا بھرم قائم رہا فرقت میں خوش رہ کر حسنؔ خود پر بھی ان پر بھی یہ احساں کر دیا ہم نے

غزل · Ghazal

ham jinhein haal-e-dil-e-zaar sunaane nikle

ہم جنہیں حال دل زار سنانے نکلے ان کے تو اور المناک فسانے نکلے سوئے مے خانہ وہ مسجد کے بہانے نکلے شیخ جی رند سے بڑھ کر بھی سیانے نکلے ہاتھ وہ دھونے کو بہتی ہوئی گنگا کی بجائے اپنے ہی خون کے دریا میں نہانے نکلے اب کے شبنم بھی عجب برسی عجب شعلے بھی برف کے پھول کھلے دھوپ کے دانے نکلے اپنا چہرہ جو نہ پہچان سکے ساری عمر آئنہ لے کے وہ اوروں کو دکھانے نکلے باغباں نے جسے سینچا تھا لہو سے اپنے پتھروں میں بھی وہی پھول کھلانے نکلے شعر گوئی میں نہیں رکھتے جو آپ اپنا جواب تم حسنؔ شعر انہیں آج سنانے نکلے

غزل · Ghazal

tu hi tu hai main jidhar dekhun jahaan tak dekhun

تو ہی تو ہے میں جدھر دیکھوں جہاں تک دیکھوں میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں دل میں خود اپنے بسا کر بھی یہی کہتے ہو میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں تاب نظارہ کہاں اتنا کہ سب کچھ دیکھوں دیدۂ بینا جہاں تک ہے وہاں تک دیکھوں کچھ تو بدلے سحر و شام کی گردش یارب کچھ نئی رت نئے موسم کے سماں تک دیکھوں گردش زیست بھی ہے گردش ایام کے ساتھ تو ہی بتلا دے یہ گردش میں کہاں تک دیکھوں زندگی کا یہ تقاضہ کہ ہو اس سے برتر عقل کہتی ہے فقط سود و زیاں تک دیکھوں کیسے دیکھوں جو حسنؔ حد نظر سے ہے پرے اس سے حاصل ہے بھلا کیا جو عیاں تک دیکھوں

غزل · Ghazal

na to jiine ko na mar jaane ko ji chaahtaa hai

نہ تو جینے کو نہ مر جانے کو جی چاہتا ہے کیا کہوں کیا مرا کر جانے کو جی چاہتا ہے کچھ بھی تو ایسا نہیں جس سے سکوں دل کو ملے ان دنوں یوں ہے کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے'' نہ تو ساحل پہ کھڑے رہنے سے کچھ حاصل ہے اور نہ پانی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے بزم میں ان کی ہو جانا تو جھجھکنا کیسا مت رکو جاؤ اگر جانے کو جی چاہتا ہے زلف ہے اپنی پریشان تو وہ آئنہ رو سامنے رکھ کے سنور جانے کو جی چاہتا ہے حد مقرر ہو جہاں عشق کی وہ عشق نہیں آج تو حد سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے نہ حسنؔ اپنا نہ بیگانہ ہو دیوانہ جہاں اسی صحرا سے گزر جانے کو جی چاہتا ہے

غزل · Ghazal

anaa ki aag mein har lamha jal rahaa huun main

انا کی آگ میں ہر لمحہ جل رہا ہوں میں غذا مری ہے یہی اس میں پل رہا ہوں میں کبھی اس آگ کے سانچے میں ڈھل رہا ہوں میں کبھی یہ برف کہ جس میں پگھل رہا ہوں میں ہر ایک صبح افق سے نکل رہا ہوں میں شفق میں اپنی ہر اک شام ڈھل رہا ہوں میں ہر ایک موڑ پہ رستہ کچل رہا ہوں میں کہ اپنے قدموں سے خود کو کچل رہا ہوں میں میں اپنے زنداں میں قیدی بنا گیا خود کو اور اپنے آپ سے بچ کر نکل رہا ہوں میں کوئی تو بچہ حسنؔ ہے چھپا ہوا مجھ میں کہ جس کی مانگ پہ ہر دم مچل رہا ہوں میں

غزل · Ghazal

na vo zamin mein thaa aur na aasmaan mein thaa

نہ وہ زمین میں تھا اور نہ آسمان میں تھا کبھی یقیں میں مرے تھا کبھی گمان میں تھا میں ایک جال لئے عمر بھر بھٹکتا رہا پرندہ دور بہت دور آسمان میں تھا میں روز گھر سے نکلتا تھا ڈھونڈنے کے لئے مکین بن کے وہ خود میرے ہی مکان میں تھا میں کاش بند دریچے سے جھانک ہی لیتا وہ میرے کمرے کے اندر ہی سائبان میں تھا ادھورا پڑھ کے اسے لوگ رہ گئے ورنہ ہمارا ذکر بھی کچھ اس کی داستان میں تھا خطا خود اپنی نگاہوں کی تھی حسنؔ ورنہ وہ میرے جسم میں تھا وہ تو میری جان میں تھا

Similar Poets