Hasan Shakeel Mazhari
na jazbon mein koi shiddat na giraai na gahraai
نہ جذبوں میں کوئی شدت نہ گیرائی نہ گہرائی فقط لفظوں کی بیساکھی پہ ہے ساری شناسائی بظاہر دیکھنے میں یوں تو ہیں اک جان دو قالب حقیقت میں ہیں دونوں ہی اسیر رنج تنہائی زبان مدعا ہے جرأت اظہار سے قاصر کہ ان آنکھوں میں دیکھا ہم نے اکثر خوف رسوائی بھٹکتا پھر رہا ہوں میں سواد دشت ظلمت میں نظر آتا نہیں رستہ بصیرت ہے نہ بینائی رخ روشن پہ پردہ کب تلک اے حسن خود آرا ذرا پردے سے باہر آ کہ عالم ہے تماشائی جنون خود نمائی ابتذال علم و حکمت ہے کہ ہر اک مبتدی کرتا ہے خود اپنی پذیرائی شکیل مظہریؔ ایسی غزل کہنے سے کیا حاصل تخیل میں کوئی ندرت نہ شعروں میں ہے رعنائی