SHAWORDS
H

Haseeb Rehbar

Haseeb Rehbar

Haseeb Rehbar

poet
3Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

جو بات حقیقت ہو بے خوف و خطر کہیے میں اس کا نہیں قائل شبنم کو گہر کہیے لفظوں کی حرارت سے اجسام پگھل جائیں سنجیدہ ذرا ہو کر اشعار اگر کہیے اپنوں نے پلائے ہیں زہراب کے گھونٹ اکثر ہونٹوں پہ جو خشکی ہے تلخی کا اثر کہیے بازار تصنع کے جلووں کی نمائش کو ٹوٹے ہوئے شیشوں کا ادنیٰ سا کھنڈر کہیے جذبات کا خوں کر دوں احساس کچل ڈالوں زخموں سے لہو ٹپکے سو بار اگر کہیے تخلیق اجثا یا حافظؔ کی غزل رہبرؔ جس سے ہو بقا فن کی معراج ہنر کہیے

jo baat haqiqat ho be-khauf-o-khatar kahiye

غزل · Ghazal

کسے ہم اپنا کہیں کوئی غم گسار نہیں ہمیں جب اپنے پرائے پہ اعتبار نہیں ہم اپنے دور کی سچائیوں کو لکھتے ہیں قلم ہمارا کسی کا تو مستعار نہیں جو بے وفا تھے وہی لوگ پا گئے اعزاز مری وفاؤں کا اب تک کہیں شمار نہیں ہمارے سر پہ برس جائیں گے کہاں پتھر تنک مزاجیٔ موسم کا اعتبار نہیں دعائیں دے کے جو بچوں کو شہر بھیجیں گے اب ایسے گاؤں میں کوئی بزرگوار نہیں ہزار مفلس و نادار میں سہی رہبرؔ خدا کا شکر کسی کا بھی قرض دار نہیں

kise ham apnaa kahein koi gham-gusaar nahin

غزل · Ghazal

نقش کہن سب دل کے مٹاؤ پھر کوئی تصویر بناؤ بستی بستی خون خرابہ عقل کے مارو ہوش میں آؤ پتھر بن کر جینا کیا پھولوں کی ٹہنی بن جاؤ مصنوعی کردار کے لوگو سچائی کے روپ دکھاؤ رات اندھیری سر پر طوفاں سوچ سمجھ کر قدم بڑھاؤ اپنوں کو تم چھوڑ کے رہبرؔ کہاں چلے یہ راز بتاؤ

naqsh-e-kuhan sab dil ke miTaao

Similar Poets