Haseer Noori
Haseer Noori
Haseer Noori
Ghazalغزل
vaqt kaa suraj jalan ke ruup mein jab aa gayaa
وقت کا سورج جلن کے روپ میں جب آ گیا سنگ تن پر دھوپ کے سیلاب کو روکا گیا پست ہمت کے ذریعہ ہو گیا رد عمل ہم کو بے مقصد دلاسا دے کے بہلایا گیا بے زباں زخموں کو فرط خواہشات زیست کو جو نہ سمجھا غیر ذمہ دار وہ سمجھا گیا درد کی لہروں نے رکھا مضطرب انفاس کو نام کے طوفاں سے جسم آرزو ڈھانپا گیا آخری باتوں کی روپوشی کے وہ قائل نہ تھے کہنے والوں کو مگر کہنے سے بھی روکا گیا ہم بچاتے ہی رہے اس کو محبت سے حصیرؔ اپنی حرکت سے مگر وہ خود یہاں پکڑا گیا
jo bhi yahaan huaa vo bahut hi buraa huaa
جو بھی یہاں ہوا وہ بہت ہی برا ہوا ہر آدمی کا ذہن ہے اب تک جلا ہوا مٹی کو سونگھنے سے کوئی فائدہ نہیں میں جا رہا ہوں نقش وفا چھوڑتا ہوا روزن بنا رہے ہیں خلا میں کرن کے تیر سورج اسی لیے ہے زمیں پر جھکا ہوا ہم سہہ رہے ہیں اپنے عزیزوں کے درد و غم آیا جو دست و پا لیے بے دست و پا ہوا اک شخص میرے ساتھ سفر میں رہا مگر منزل قریب آئی تو مجھ سے جدا ہوا مجھ کو کسی کی بات کی پروا نہیں ابھی میں جی رہا ہوں شہر میں تنہا تو کیا ہوا افسوس کی نہیں یہ تعجب کی بات ہے کیسے گزر گیا وہ مجھے دیکھتا ہوا تم نے مرے لیے تو بہت کچھ کیا مگر کیا تم کو اے حصیرؔ کوئی فائدہ ہوا
log kahte hain ki suraj mein andheraa kyuun hai
لوگ کہتے ہیں کہ سورج میں اندھیرا کیوں ہے دھوپ نکلی ہے غلط بات کا چرچا کیوں ہے زندگی سے نہیں جب تم کو کوئی دلچسپی چند لمحوں کی مسرت کا تقاضا کیوں ہے پڑھنے والوں کے دلوں پر ہو صداقت کا اثر ایسی تحریر وہ لکھتا ہے تو لکھتا کیوں ہے اپنے مرکز پہ جسے لوٹ کر آنا ہی پڑا دیکھ کر آئنہ اب چہرہ چھپتا کیوں ہے ڈر رہا ہوں کہ مصیبت نہ کہیں آ جائے ذہن میں تیزی سے احساس یہ ابھرا کیوں ہے مجھ سے نفرت ہے تو اظہار کبھی بھی نہ کیا وہ فرشتہ ہے تو کچھ کہنے سے ڈرتا کیوں ہے یاد ہوگی تمہیں پہلے کی ہر اک بات حصیرؔ پھر محبت سے اسے تم نے نوازا کیوں ہے





