Hashmi Bijapuri
Hashmi Bijapuri
Hashmi Bijapuri
Ghazalغزل
کہا کیا عیب ہے بولو جو سینہ ہت سوں چھینے کا کہی میں جیوچ دیونگی ہو جو لیں گے نانوں سینے کا کہا میں کچھ دغا کر کے پکڑنے میں کریں گے کیا کہی میں موئی سو سپڑوں گی موئے کیا ایسے جینے کا کہا کچھ بھی زرینہ میں منگا دیتا ہوں راضی ہو کہی لونڈیاں للچتیاں ہیں یوں ناؤں سن زرینے کا کہا کیا عیب ہے بولو مٹھی تاڑی سیندھی پینا کہی اوئی عیب کوگے نئیں موئی عورت کوں پینے کا کہا پشواز میں چولی اوپر پھر شال کے سٹتی کہی کچھ بھی دھرے جو کوئی اسے لگ ہے دفینے کا
کہا کیا عیب ہے بولو جو سینہ ہت سوں چھینے کا
ترے سنگار کے بن میں تماشا میں نول دیکھا سرو کے جھاڑ کوں نرمل اناراں سے دو پھل دیکھا ترا قد نیشکر جانوں مکیاں جوبن چنپے کیاں دو ترے سینے کے جل میانے کچن کے دو کنول دیکھا سہاوے چولی نارنجی ہرے ڈالیاں منے تیرے چھے پاتاں میں جیوں نارنج یوں کچ پر انچل دیکھا ترے اس نخل خرماں کوں جوبن امرت دو پھل لاگے کچن کی گیند کوں نیلم جڑے سو میں اصل دیکھا ہوا ہے ہاشمیؔ مالی ترے سنگار کے بن میں لگے تجھ قد کی ڈالی پر کچن دو پھل نچھل دیکھا
ترے سنگار کے بن میں تماشا میں نول دیکھا
اونو آویں تو پردے سے گھڑی بھر بھار بیٹھوں گی بہانا کر کے موتیاں کے پروتے ہار بیٹھوں گی اونو یاں آو کیں گے تو کہوں گی کام کرتی ہوں اٹھلتی ہور مٹھلتی چپ گھڑی دوچار بیٹھوں گی نزک میں دوڑ جانے کوں خوشی ہوں چپ اچھل رہوں گی ولے لوگاں میں دکھلانے کو ہو بیزار بیٹھوں گی پکڑ کر ہاتھ پردے میں لیجاویں گے تو جھڑکوں گی گھنگھٹ میں مکھ چپا کرٹک میں تڑکا مار بیٹھوں گی بلایاں جیوں کے جیوں میں لے پڑوں گی پاؤں میں دل سوں ولے ظاہر میں دکھلانے کو ہو اغیار بیٹھوں گی کروں گی ظاہرانہ چپ غصہ اور مان ہٹ لیکن سریجن پرتے جیو اپنا میں جیو میں وار بیٹھوں گی کتی بیزاری دیتے ووئی جو بیٹھی تو نزک آکر مجھے سو گند جو آکر یوں دسری بار بیٹھوں گی کنے کو چپ کتی ہوں میں ولے یوں جی میں گھٹ کی یوں نزک ہو ہاشمی کے مل میں آٹھوں پھار بیٹھوں گی
اونو آویں تو پردے سے گھڑی بھر بھار بیٹھوں گی
سجن آویں تو پردے سے نکل کر بھار بیٹھوں گی بہانہ کر کے موتیاں کا پرونے ہار بیٹھوں گی اونو یہاں آؤ کہیں گے تو کہوں گی کام کرتی ہوں اٹھلتی ہور مٹھلتی چپ گھڑی دو چار بیٹھوں گی نزک میں ان کے جانے کو خوشی سوں شاد ہوں دل میں ولے لوگوں میں دکھلانے کوں ہو بیزار بیٹھوں گی بلایاں جیو کا لے میں پڑوں گی پاؤں میں دل سوں ولے ظاہر میں دکھلانے کوں ہو اغیار بیٹھوں گی کروں گی ظاہرا چپ میں غصہ ہور مان ہٹ لیکن سریجن پر تے جیو اپنا یہ جیو میں وار بیٹھوں گی کنے کو چپ کتی ہوں میں ولے میں دل میں گھٹکی ہوں نزک ہو ہاشمیؔ سوں مل کر آٹھوں پار بیٹھوں گی
sajan aavein to parde se nikal kar bhaar baiThungi





