
Hasnain Jafri
Hasnain Jafri
Hasnain Jafri
Ghazalغزل
خزاں خزاں تھا جو موسم گلاب کیا ہوتا اس ایک شخص کا میں انتخاب کیا ہوتا جو حرف حرف ہوا اور تیرے آگے ہوا بھلا وہ شخص خود اپنی کتاب کیا ہوتا میں اس کے چہرے کے سب رنگ گر چرا لیتا تو اس گنہ سے زیادہ ثواب کیا ہوتا جو ہجر رنگ ہی گزرے تمہاری قربت میں عجیب لمحے تھے ان کا حساب کیا ہوتا سفر کے پہلے ورق پر تمہاری آنکھوں کے علاوہ اور کوئی انتساب کیا ہوتا وہ روشنی کا امیں تھا میں تیرگی کا سفیر پھر اس سفر میں بھلا ہم رکاب کیا ہوتا
khizaan khizaan thaa jo mausam gulaab kyaa hotaa
بھرے سفر میں گھڑی بھر کا آشنا نہ ملا شدید پیاس میں صحرا سراب سا نہ ملا گزر گئے تو ہزاروں نشاں تھے پہلے سے پلٹ کے آئے تو اپنا ہی نقش پا نہ ملا کبھی جو دھوپ تو پیکر پگھل گئے سارے کوئی بھی نقش مجھے میرے خواب سا نہ ملا رکے ہوئے سبھی آنسو چھلک گئے لیکن وہ شخص پھر بھی نگاہوں سے بولتا نہ ملا ٹھہر گئی تھی مرے پاس چاندنی کہ اسے تمہارے شہر میں کوئی بھی جاگتا نہ ملا ہوا کے ساتھ ہی آواز لوٹ آئی ہے خلا میں پھرتی رہی کوئی ہم نوا نہ ملا چلا تو میری نظر میں ہزار راہیں تھیں بھٹک گیا تو مجھے گھر کا راستہ نہ ملا
bhare safar mein ghaDi-bhar kaa aashnaa na milaa
جل رہا ہے اک دیا آنکھوں میں آدھی رات کا میں امانت دار ہوں اب تک تری سوغات کا عمر گزری موسم گریہ نہیں ٹھہرا کہیں قرض اک باقی رہا مجھ پہ کسی برسات کا دور ہوتے جا رہے تھے ساحلوں پر دو چراغ بادباں نے رکھ لیا تھا عکس بھی اک بات کا دل میں اور آنکھوں میں تجھ سے چھوٹ جانے کا ملال تذکرہ ہونٹوں پہ لیکن دوسرے حالات کا جاگتے سوتے میں تیری یاد کے پہلو بہت اور ہر پہلو ہے روشن ایسے امکانات کا ہم بھی کچھ مجبوریوں کی آڑ میں ملتے رہے پاس کچھ اس نے بھی رکھا میرے احساسات کا
jal rahaa hai ik diyaa aankhon mein aadhi raat kaa





