Hasrat Sharvani
Hasrat Sharvani
Hasrat Sharvani
Ghazalغزل
زندگی گر دے خدا عالم نیا پیدا کروں روز ہو ہو کر فنا رنگ بقا پیدا کروں جلوہ گاہ ناز میں کیوں کر رہوں ثابت قدم ہر جفا کا ہے تقاضا اک وفا پیدا کروں حاصل صد زندگانی اک متاع درد ہے حضرت ناصح کو یہ ضد ہے دوا پیدا کروں یاں تو اظہار تمنا واں خموشی کی ادا مدعا یہ ہے دل بے مدعا پیدا کروں ایک ہی کا حسن ہے جلوہ نما کونین میں دوسرا تو جب کہوں جب دوسرا پیدا کروں چارہ ساز درد دل تو ہی ہے رب بے نیاز تیرے ہوتے دوسرا کیوں اے خدا پیدا کروں دل کا ارماں ایک سے ہے ایک بڑھ کر انتخاب کون سا ہمدم مٹاؤں کون سا پیدا کروں سر کے دعوے سب مٹا کر دل میں دیکھوں روئے دوست خود نمائی ہو چکی قبلہ نما پیدا کروں حسن روز افزوں کی جلوے ہیں غضب کی دل ربا کس طرح ہر روز حسرتؔ دل نیا پیدا کروں
zindagi gar de khudaa aalam nayaa paidaa karun
چشم ساقی کا جو ایما ہو گیا رند میکش شیخ صنعا ہو گیا مر گیا میں اب تو ہٹ پوری ہوئی لو مری جاں اب تو کہنا ہو گیا ہر گراں جاں کو ہی شوق جنس درد کس قدر سستا یہ سودا ہو گیا آفت جاں تیری قہر آلودہ چشم راحت جاں تیرا ہنسنا ہو گیا کچھ نہ دیکھی ہم نے تاثیر فغاں روتے روتے اک زمانہ ہو گیا آ گئی جب یاد اس بے درد کی درد سا اک دل میں پیدا ہو گیا آمد آمد سے مرے سفاک کی حشر میں اک حشر برپا ہو گیا دل اڑا کر لے گئی اس کی نظر وہ پری رو مفت رسوا ہو گیا دیکھ کر آئینہ وہ بت بن گئے مجھ سے بڑھ کر ان کو سکتہ ہو گیا حسرتؔ دیوانہ دل دے کر انہیں اک زمانے کا تماشا ہو گیا
chashm-e-saaqi kaa jo iimaa ho gayaa
کئے تو نے دور آسماں کیسے کیسے زمیں کو دکھائے سماں کیسے کیسے ادھر دل ہے مضطر ادھر چشم حیراں ہمارے بھی ہیں راز داں کیسے کیسے اٹھائے ہیں دیدار لیلیٰ کی خاطر شتر غمزۂ سارباں کیسے کیسے کدھر ہیں کیانی و رومی و مغلی جہاں سے اٹھے خانداں کیسے کیسے بس اک حسرت آلودہ طرز نگہ میں سخن کہہ گئے بے زباں کیسے کیسے غضب ہے تری نیم باز آنکھ ظالم ہزاروں کئے نیم جاں کیسے کیسے عجب کیا کہ ہر ذرۂ خاک دل ہو ملے خاک میں گلستاں کیسے کیسے ذرا جھانک کھڑکی سے ظالم پڑی ہیں ترے در پہ بے خانماں کیسے کیسے حیا ناز پندار رغبؔ و تغافل تمہاری بھی ہیں پاسباں کیسے کیسے کبھی ہو کے پانی بہایا نہ حسرتؔ ہوئے دل میں جور بتاں کیسے کیسے
kiye tu ne duur aasmaan kaise kaise
خوشا وہ باغ مہکتی ہو جس میں بو تیری خوشا وہ دشت کہ ہو جس میں جستجو تیری خموش ہے مگر اک عالم تکلم ہے لبوں پہ غنچہ کے گویا ہے گفتگو تیری جگر بھی چاک ہوا دل بھی پارہ پارہ ہوا لگی ہوئی ہے مگر دل سے آرزو تیری مقابل رخ زیبا نہ ہونا اے گل تر کہیں نہ خاک میں مل جائے آبرو تیری اسیر صحن گلستاں نہیں دل آرائی شمیم لطف دل افزا ہے کو بہ کو تیری طریق اہل نظر میں ہے منع یکسوئی ز بسکہ جلوہ فروزی ہے چار سو تیری ہنوز دشت ختن نافہ زار عالم ہے کبھی کھلی تھی ادھر زلف مشک بو تیری فرشتۂ اجل آئے پری کے قالب میں بوقت مرگ جو صورت ہو روبرو تیری امید لطف پہ حسرتؔ ہے باغ رضواں میں سنا ہے جب سے کہ لطف و کرم ہے خو تیری
khushaa vo baagh mahakti ho jis mein bu teri
قطرۂ اشک کا مژگاں پہ مرے یہ عالم صبح دم گھاس کی پتی پہ ہو جیسے شبنم حسرتیں دل کی نکل جاتیں ذرا تو اے کاش ایک ہی رات کو مل بیٹھتے ہم تم باہم سر میں انسان کی منصوبے بھرے تھے کیا کیا ہائے پر موت نے سب کر دئے درہم برہم بے نیازی نے کیا خون تمنا کا مری سینہ میں دل کے تڑپنے سے ہے برپا ماتم سر سے جاتے رہے اک عمر کے شکوے حسرتؔ مل کے جب بیٹھ گئے دو گھڑی ہم وہ باہم
qatra-e-ashk kaa mizhgaan pe mire ye aalam
روئے زیبا نظر نہیں آتا اپنا جینا نظر نہیں آتا لاف الفت بہت زمانے میں مرنے والا نظر نہیں آتا درد دل کی دوا ہے جس کی نظر وہ مسیحا نظر نہیں آتا گل و گلشن سے کیا تسلی ہو گل رعنا نظر نہیں آتا پھول بوٹے بہت ہیں گلشن میں سرو بالا نظر نہیں آتا طبع مواج کے مقابل ہو ایسا دریا نظر نہیں آتا جس پہ مٹ جانے کی تمنا ہے وہ سراپا نظر نہیں آتا چھان ڈالا جہان اس کے لئے نہیں آتا نظر نہیں آتا جس میں وحشت کے حوصلے نکلیں ایسا صحرا نظر نہیں آتا تھک گئی تارے گنتے گنتے نگاہ ماہ سیما نظر نہیں آتا جس میں صورت نما ہو نقش مراد ایسا نقشہ نظر نہیں آتا لاکھوں جلوہ نظر میں ہیں حسرتؔ جلوہ فرما نظر نہیں آتا
ru-e-zebaa nazar nahin aataa





