Hassamuddin Haider Nami
Hassamuddin Haider Nami
Hassamuddin Haider Nami
Ghazalغزل
badnaami-e-ulfat ko ye aar na samjhegaa
بدنامیٔ الفت کو یہ عار نہ سمجھے گا اس دل کو نہ سمجھاؤ زنہار نہ سمجھے گا بیمار ہوا ہوں میں اک عشوۂ پنہاں سے عیسیٰ بھی مرے دل کو آزار نہ سمجھے گا حرص اس لب شیریں کی کیا دل سے مرے کم ہو پرہیز کبھو اچھا بیمار نہ سمجھے گا غفلت کو جوانی کی کچھ پوچھو نہ اے زاہد بے ہوشی کی لذت کو ہشیار نہ سمجھے گا گو راہ محبت میں جاتی ہیں چلی جانیں مرد رہ عشق اس کو دشوار نہ سمجھے گا مجھ سے ہے اسے ملنا اک ننگ کا باعث ہے اغیار کے ملنے کو وہ عار نہ سمجھے گا سمجھانے دو ناصح کو مت منع کرو یارو جب تک نہ سنے گا وہ دو چار نہ سمجھے گا حال دل خوں گشتہ نامیؔ نے لہو رو رو نامہ میں کیا انشا پر یار نہ سمجھے گا
har chand ki rote mein asar main nahin rakhtaa
ہر چند کہ روتے میں اثر میں نہیں رکھتا کچھ اس کے سوا اور ہنر میں نہیں رکھتا اس شوخ کے آنے کی خبر مجھ سے نہ پوچھو تھی بے خبری مجھ کو خبر میں نہیں رکھتا آگے مرے ریسے ہے جو اس کوچے میں آ کر اے ابر مگر دیدۂ تر میں نہیں رکھتا ہے دوری گلشن سے قلق جن کو نہایت افسوس کہ اس فصل میں پر میں نہیں رکھتا
bhule kab lazzat asiri ki chaman ko dekh kar
بھولے کب لذت اسیری کی چمن کو دیکھ کر یاد آتی ہے ہمیں غربت وطن کو دیکھ کر حق بہ جانب ہے ہمارے تو کہ آئینہ میں وہ بوسہ لے لیتا ہے آپ اپنے دہن کو دیکھ کر سونگھنے والے تمہاری زلف عنبر فام کے ہوتے ہیں چیں بر جبیں مشک ختن کو دیکھ کر جی میں ہے اب بے ستوں میں جا کے روؤں خوب میں نقش شیریں و مزار کوہ کن کو دیکھ کر وہ سہی بالا جو گل یاد آ گیا گل گشت میں لگ گئی ہچکی مجھے سرو چمن کو دیکھ کر مت کیا کر عاشقوں کی خاک کو یوں پائمال رسم عشق اٹھ جائے گی تیرے چلن کو دیکھ کر تیرہ روزی یاں تلک تو ہے پر اب کھاتی ہے رشک شام غربت ہے مری صبح وطن کو دیکھ کر گل گریباں چاک کرتے ہیں چمن میں رشک سے بر میں شبنم کے تمہارے پیرہن کو دیکھ کر قصد کرتا ہوں ہم آغوشی کا لیکن روز وصل جی نکل جاتا ہے اس نازک بدن کو دیکھ کر چہچہے کرنے گئے سب بھول اب خاموش ہیں مرغ گلشن میرے انداز سخن کو دیکھ کر اس سے ملنے کو تو نامیؔ منع ہم کرتے نہیں دیجیو لیکن دل اس پیماں شکن کو دیکھ کر
jaan se ham gae na aaya tu
جان سے ہم گئے نہ آیا تو کھو دیا آپ کو نہ پایا تو غیر کے گھر میں لاکھ بار گیا کبھو تشریف یاں نہ لایا تو کچھ نہیں سوجھتا بغیر ترے دل میں یاں تک تو ہے سمایا تو تجھ کو عالم میں چڑ رہا ایک میں ساری دنیا میں مجھ کو بھایا تو
kohkan aashiq rahaa na qais divaana rahaa
کوہ کن عاشق رہا نہ قیس دیوانہ رہا اب زبان زد خلق تو اپنا ہی افسانہ رہا دیکھ کر کہتے ہیں سب ابرو و چشم مست یار کیوں کہ محراب حرم کے نیچے مے خانہ رہا کس طرح سے یہ نگر اے ہم نفس آباد ہو برسوں شہر دل پہ جیش عشق کا تھانہ رہا نت رہے وابستۂ زنجیر زلف مہ وشاں فرقہ عشاق میں اپنا یہی بانا رہا گرچہ خواب و خور سے ہجراں میں ہوئے فارغ ولے شب کی بیداری رہی اور ان کو غم کھانا رہا طاقت و صبر و خرد تو دے چکے کب کے جواب ہجر میں اب ایک باقی ہم کو مر جانا رہا دل الجھتا ہے مرا جلدی بتا مشاطہ آج دیر تک زلفوں میں اس کی کس لئے شانہ رہا ہم تو عقل و ہوش کے نامیؔ کے قائل ہیں کہ یہ عمر بھر حسن پری رویوں کا دیوانہ رہا
jab na tab laDne hi ko tayyaar ho
جب نہ تب لڑنے ہی کو تیار ہو خوش رہو صاحب اگر بیزار ہو کہتے ہیں سب یار سے کہہ حال دل چپ رہوں کیوں گر لب اظہار ہو سوؤ گے یاران رفتہ کب تلک آج روز حشر ہے بیدار ہو اتنے سن میں یہ شرارت ہے غضب ہو تو لڑکے پر بڑے عیار ہو کس طرح تڑپے نہ وہ تیری نگاہ تیر سی جس کے جگر کے پار ہو خاک دیکھے لالہ و گل کی طرف یار کا جو طالب دیدار ہو کاروان عمر کا ہے جلد کوچ وقت غفلت کا نہیں بیدار ہو گر نہیں منظور ہے مرنا مرا اس قدر کیوں در پئے آزار ہو حال اپنا قابل گفتن نہیں کہئے اس سے جب کوئی غم خوار ہو ایک عالم غرق ہو لوہو میں گر اوج موج دیدۂ خوں بار ہو کیا عروج عشق ہے نامیؔ کہ جب دار پر سر ہوئے تب سردار ہو





