
Hayat Madrasi
Hayat Madrasi
Hayat Madrasi
Ghazalغزل
hamaare sher kaa haasil taassuraat se hai
ہمارے شعر کا حاصل تأثرات سے ہے ہمارا رابطہ کاغذ قلم دوات سے ہے ہماری زیست کا یوں حادثوں سے رشتہ ہے کہ جیسے زلف کو نسبت سیاہ رات سے ہے فضا چمن کی تو شبنم سے با وضو ہوگی خدا کا ذکر علی الصبح پات پات سے ہے خلوص دیکھیے پتھر میں دست کاری کا جو پوجے جانے کی رغبت خدا کی ذات سے ہے حیاتؔ جس کی امانت تھی اس کو لوٹا دی اب اپنی زیست کی وابستگی ممات سے ہے
koi nazaara na khud se alaahada kiije
کوئی نظارہ نہ خود سے علاحدہ کیجے نظر نظر میں ہیں جلوے معائنہ کیجے نظر کو پہلے جلا دے کے آئینہ کیجے پھر اس کے بعد خودی کا مشاہدہ کیجے خودی خدا سے جدا ہو تو بے خودی اچھی وجود وہم ہے اس کو علاحدہ کیجے نظر سے دوری بھی وجہ حضوریٔ دل ہے حضور تجربہ اچھا ہے تجربہ کیجے انہی کا در ہی تو ہے بزم ممکنات تمام جبین شوق کو پھر وقف بارگہہ کیجے سیاہ بخت کو چمکانا ہے اگر منظور پھر اپنے نامۂ اعمال کو سیہ کیجے تمام چشم کرم عام ہے زمانے پر ادھر بھی چشم کرم اپنی گاہ گاہ کیجے جو بے طلب ہو خوشی اس کا کیجئے ماتم کبھی تو لذت غم کو بھی بامزا کیجے حیاتؔ طبع روانی میں کوئی فرق نہیں چمن تمہارا ہے جی بھر کے زمزمہ کیجے
patte ki tarah TuuT ke nazron se giraa huun
پتے کی طرح ٹوٹ کے نظروں سے گرا ہوں ہر رنگ سے میں برسر پیکار رہا ہوں مجھ کو ورق دفتر فرسودہ نہ سمجھو ہر دور کے دیوان کا میں نغمہ سرا ہوں صدیوں سے مسلط تھا وہ اک لمحۂ جاوید تنہائیٔ شب میں جو کبھی تجھ سے ملا ہوں یہ بھی تو مرا شیوۂ عیسیٰ نفسی ہے ہر جلتے بدن کے لئے میں ٹھنڈی ہوا ہوں ہر سادہ ورق پیکر فریاد بنا ہے دیوان کے دیوان کو میں چاٹ چکا ہوں اک دن تو اجالوں سے گلے مل کے رہوں گا صدیوں سے اندھیروں کے ہم آغوش رہا ہوں خورشید کے صہبا میں حیات اپنی ڈبو کر میں گردش ایام سے بھی کھیل رہا ہوں
khirad ki chhaanv mein niind aa rahi hai
خرد کی چھاؤں میں نیند آ رہی ہے کہاں غیرت جنوں کی کھو گئی ہے مجھے تیرے تصور نے سنبھالا جہاں بھی گردش دوراں ملی ہے ہوئی مدت جلا تھا آشیانہ نگاہوں میں ابھی تک روشنی ہے جہاں وہ چلتے چلتے رک گئے ہیں وہاں گردش فلک کی تھم گئی ہے مرے اشکوں کی تابانی سے ہمدم شب فرقت کی ظلمت کانپتی ہے یہ میرا ذوق نظارہ سلامت ہر اک صورت میں صورت آپ کی ہے کہاں جاؤں نکل کر میکدے سے رہ دیر و حرم میں تیرگی ہے سنبھل کر پاؤں رکھ اے وحشت دل وفا کی رہ گزر کانٹوں بھری ہے حد ادراک میں دم توڑنا کیا جنون عشق میں زندہ دلی ہے غم انساں غم دوراں غم دل حیاتؔ اب کشمکش میں زندگی ہے
kabhi be-muddaaa denaa kabhi baa-muddaaa denaa
کبھی بے مدعا دینا کبھی با مدعا دینا سمجھ میں کچھ نہیں آتا تری سرکار کا دینا کبھی محراب دل کو درخور کعبہ بنا دینا کبھی دامان غم کو بھی مدینے کی ہوا دینا مبارک ان کو اپنی راہ میں کانٹے بچھا دینا ہمیں آتا ہے بس دشمن کے حق میں بھی دعا دینا جناب شیخ کا یہ زہد و تقویٰ کیا عبادت ہے مآل بندگی ہے زندگی اپنی مٹا دینا تری نظروں کے صدقے بے پیے ہی مست ہیں ساقی ہمارے سامنے سے ساغر و مینا ہٹا دینا ریاض زخم کو دی تازگی میری نگاہوں نے مرے اشکوں کو آتا ہے خزاں میں گل کھلا دینا غزل کو اب حیاتؔ افروز نظاروں کی حاجت ہے قدامت سے الگ ہٹ کر نئی دنیا بسا دینا
par-e-jibril bhi jis raah mein jal jaate hain
پر جبریل بھی جس راہ میں جل جاتے ہیں ہم وہاں سے بھی بہت دور نکل جاتے ہیں محفل دل کو ہے مانگے کے اجالے سے گریز دیپ داغوں کے سر شام ہی جل جاتے ہیں صاف اڑ جاتا ہے خاصان خرابات کا رنگ ہم وہ مے خوار ہیں پی پی کے سنبھل جاتے ہیں اک حقیقت ہی حقیقت ہے ازل ہو کہ ابد ویسے افسانوں کے عنوان بدل جاتے ہیں دیکھیے نقش کف پائے وفا کا اعجاز راستے دودھ کے مانند ابل جاتے ہیں زندگی اصل میں تعمیر محبت ہے حیاتؔ دے کے ہم دہر کو پیغام عمل جاتے ہیں





