SHAWORDS
Herssh Adeeb

Herssh Adeeb

Herssh Adeeb

Herssh Adeeb

poet
6Ghazal

Ghazalغزل

غزل · Ghazal

انساں کی کامیابیاں کتنی ہیں مختصر دو گز زمین کے لئے سو سال کا سفر مجھ کو اکیلا چھوڑ کے پردیس جا بسے جن کو سنائی لوریاں گودی میں رکھ کے سر رستے کو ڈھونڈھنے میں نہ تکلیف ہو تجھے دہلیز پر دیا مری جلتا ہے رات بھر آئینہ بے قرار ہے دیدار کے لیے اپنی ہی شکل سے مجھے لگنے لگا ہے ڈر وہ شخص عقل مند ہے جس کو پتہ ہے یہ کیسے بری خبر سے بھی رہنا ہے بے خبر

insaan ki kaamyaabiyaan kitni hain mukhtasar

1 views

غزل · Ghazal

ہمیشہ ملا کر مجھے منہ اندھیرے یہ دن تو ہیں دشمن مری جان میرے ہوا درمیاں سے گزرنے نہ پائے رہیں تنگ باہوں کے اتنے یہ گھیرے ہے معقول موسم پرندوں کی چاہت شجر کو بھرم یہ کہ ہیں دوست میرے سمندر مبارک تجھے تیری عظمت مجھے بھا گئے ہیں یہ ویراں جزیرے کسی کی حویلی میں پسرا اندھیرا چمن کے مسافر کے صحرا میں ڈیرے شجر ایسے لگتے ہیں کہرے میں مجھ کو کہ رستے میں جیسے کھڑے ہوں لٹیرے

hamesha milaa kar mujhe munh andhere

غزل · Ghazal

کھلی چھت کے کبوتر تھے کبھی ہم مکاں ٹوٹا تو آنکھیں ہو گئیں نم چلو دہلیز سے آنکھیں اٹھا لیں گزرتے جا رہے وعدوں کے موسم زمیں پر گر نہ جائیں روک لو تم تمہارے اشک ہیں کتنے مکرم مداوا زخم کا کرتا ہے ایسے نمک کے ساتھ میں رکھتا ہے مرہم سمندر چل کے آیا گھر ہمارے تلاطم نے کیا ہے ناک میں دم مقفل کر دیا ہے گھر کسی نے نکلنا صبح تک لگتا ہے مبہم

khuli chhat ke kabutar the kabhi ham

غزل · Ghazal

دیکھی ہیں میں نے شہر میں ایسی بھی بستیاں بیوائیں بیچتی ہیں سہاگن کو چوڑیاں جب سے سزا میں کاٹ کے آیا ہوں جیل سے پہنے بغیر سو نہیں پاتا میں بیڑیاں بھیجی تھی آپ نے جو گھڑی مل گئی مجھے کچھ وقت چاہتی ہیں پتا سے بھی بیٹیاں بالغ ہوئے تو ہو گیا اونچا یہ آسماں چومیں گے کیسے چاند کو اچکا کے ایڑیاں کچھ بھیک میں جناب ترقی نہیں ملی ساگر تجھے نچوڑ کے لایا ہوں سیپیاں نقشہ نویس کون ہے اس بارگاہ کا دیوار موم کی بنی کاغذ کی کھڑکیاں کتنی ادیبؔ دور ہے منزل پتہ نہیں صحرا کی گرم ریت ہے کاغذ کی جوتیاں

dekhi hain main ne shahr mein aisi bhi bastiyaan

غزل · Ghazal

تجھ کو ہاتھوں کی لکیروں میں بسایا جائے تیرے ہر درد کو سولی پہ چڑھایا جائے گھر سے بھاگی ہوئی لڑکی کی طرح ہے جیون اس کو ماں باپ کے گھر چھوڑ کے آیا جائے زندگی تلخ سوالوں کے ہوں پنے جیسے ان سوالوں کو سلیبس سے ہٹایا جائے اب مناسب نہیں رشتہ کو مسلسل رکھنا میرے خط کو کسی دریا میں بہایا جائے رات میں رونے سے ماں باپ پریشاں ہوں گے اپنے جذبات کو تکیے میں چھپایا جائے بھوک زوروں سے لگی ہو تو خدا کیا کیجے کھوٹے سکے کو اندھیرے میں چلایا جائے

tujh ko haathon ki lakiron mein basaayaa jaae

غزل · Ghazal

میرے گھر کے سارے برتن اب پرانے ہو گئے جو عبادت کی جگہ تھی غسل خانے ہو گئے گھر مقفل ہو گیا ہے اک نئی تعمیر کو گھر میں رہنے والے پنچھی بے ٹھکانے ہو گئے جس گلی میں پسلیاں ٹوٹی تھیں میرے عشق کی اس گلی سے اب تو گزرے بھی زمانے ہو گئے کر رہے تھے آبشاروں کی بڑی تعریف سب سامنے جو میکدے آئے ٹھکانے ہو گئے شادیاں ایسی بھی دیکھیں بچپنے میں با خدا جب گھروں کی چادریں ہی شامیانے ہو گئے جن گنہ گاروں کو دینے لوگ آئے ہیں سزا ان کو تو دریا میں ڈوبے اک زمانے ہو گئے کب تری تیمارداری سے ملی فرصت مجھے گھر بھی لگتا ہے دوا کے کارخانے ہو گئے دشت کی اب بے رخی سے آ گئے عاجز ادیبؔ پیڑ بوڑھے ہو گئے پنچھی سیانے ہو گئے

mere ghar ke saare bartan ab puraane ho gae

Similar Poets