
Hiamanshu Panday
Hiamanshu Panday
Hiamanshu Panday
Ghazalغزل
کہاں غائب ہوا وہ گھر پرندے سے ذرا پوچھو بھیانک آندھیوں کا ڈر پرندے سے ذرا پوچھو مشاہد کو لگا آسان ہے طوفان میں اڑنا زمیں سے عرش تک دوبھر پرندے سے ذرا پوچھو اٹھائے پنکھ تب آکاش بھی چھوٹا پڑا تھا پھر قفس میں ہیں سمائے پر پرندے سے ذرا پوچھو
kahaan ghaaeb huaa vo ghar parinde se zaraa puchho
3 views
زمانہ ایک وہ بھی تھا سہارے تھے تمہارے ہم کھڑے ہیں اب ذرا دیکھو دواروں کے سہارے ہم بتا کر ایک مصرع میں ندی سا حسن وہ تیرا ملے پھر دوسرے مصرعے اسی دریا کنارے ہم کسی سے جو نہیں ہارا وہ اپنوں سے تو ہارا ہے تمہارے سامنے جیسے محبت پھر سے ہارے ہم تمہی ہر روز مجھ کو خود سے تھوڑا دور کرتے تھے فلک تک دور جب پہنچے ہوئے ہیں پھر ستارے ہم
zamaana ek vo bhi thaa sahaare the tumhaare ham
3 views
دریچے ہی دریچے تھے کوئی بھی در نہیں آیا صداؤں کی کمی تھی کیا جو تو باہر نہیں آیا اگر ہے دولتوں میں دم خریدو تم مرا سایہ میں وہ بیجو جو اکبر کے بلانے پر نہیں آیا بہت میٹھا سا لگتا ہے تری آنکھوں کا پانی کیوں تری آنکھوں کے حصے کیا کبھی ساگر نہیں آیا ہزاروں لوگ بس یہ جسم چھو کر لوٹ جاتے ہیں ہوا عرصہ کوئی اس روح کے اندر نہیں آیا ہمارے غم کا پیمانہ ہے اب تو اوسطاً اتنا کبھی موسم بہاروں کا زیادہ تر نہیں آیا
dariche hi dariche the koi bhi dar nahin aayaa
3 views
سماعت آپ کی آہٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے کہ یہ وہ ناؤ ہے جو تٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے تجھے ہاتھوں سے چھونے کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہوس میری تری چوکھٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے نظر میری ترے ماتھے کی سلوٹ پہ ہی رہتی ہے خوشی میری اسی سلوٹ پہ آ کر ٹوٹ جاتی ہے
samaaat aap ki aahaT pe aa kar TuuT jaati hai
1 views





